خطبات محمود (جلد 32) — Page 132
1951ء 132 خطبات محمود نے تین گھنٹہ دھواں دھار تقریر کی اور فلاں نے اڑھائی گھنٹے تقریر کی لیکن اس کا نتیجہ کوئی نہیں نکلا تو یہ تقریریں میرے لیے خوشی کا پیغام نہیں لائیں ۔ بلکہ رنج کا پیغام لائیں کہ جماعت کے لوگ اس قدر سست ہو گئے ہیں کہ انہیں دھواں دھار تقریریں بھی بیدار نہیں کر سکیں۔ یا ان تحریروں اور رپورٹوں کا میں یہ مطلب نکال سکتا ہوں کہ یہ محض حُسنِ ظنی ہے کہ تقریریں ہوئیں ورنہ نہ کوئی اڑھائی گھنٹہ تقریر ہوئی ہے اور نہ دھواں دھار اور شاندار تقریر ہوئی ہے۔ یونہی پھپھی اور بد دل کرنے والی باتیں کی گئیں ہیں۔ غرض میں صرف دو نتیجے نکال سکتا ہوں کہ یا تو دھواں دھار تقریریں نہیں کی گئیں صرف رپورٹوں کے کاغذوں کو سیاہ کیا گیا ہے۔ اور یا پھر یہ کہ جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں (جو) تھوڑے بہت تو ہر جگہ ہوتے ہیں اور ہر زمانہ میں ہوتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ تھے ) اور ان کی اتنی تعداد ہو گئی ہے کہ ان کی کمزوری کی وجہ سے اب تحریک جدید کا چلنا قریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ اور یہ دونوں نتائج نہایت تکلیف دہ ہیں۔ یہ کہہ دینا کہ جماعت کے سات آٹھ فیصدی طبقہ میں سستی پیدا ہو گئی ہے جو تحریک جدید میں جا کر پچاس ساٹھ فیصدی ہوگئی ہے یہ بڑی خطرناک چیز ہے۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تحریک جدید میں وعدہ کرنے والے سب مخلص نہیں بلکہ جماعت کا کمزور طبقہ محض دکھاوے کی خاطر اس میں وعدہ کر دیتا ہے۔ یہ کتنی خطرناک بات ہے۔ یا پھر یہ بات ہے کہ رپورٹ کرنے والوں نے سچائی سے کام نہیں لیا۔ تقریریں کرنے والے جلسہ میں آئے اور تقریریں کر کے چلے گئے اور چندہ کی وصولی یا وصولی کے معین وعدے نہیں لیے اور جماعت میں قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا نہیں ہوا۔ اس قسم کے جلسوں کا بھلا فائدہ ہی کیا ہے۔ جو دھواں دھار تقریریں ہوا کرتی ہیں وہ دلوں کو ہلا دیتی ہیں اور اُن کے نتیجہ میں انسان اپنے اندر تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ یہ جلسے اِس لیے کیے گئے تھے کہ جن لوگوں نے سُستی اور غفلت کی وجہ سے ابھی تک وعدے ادا نہیں کیسے اُنہیں کہا جائے کہ اگر تم اب وعدے ادا نہیں کرو گے تو کب کرو گے؟ اگر تم نے ابھی تک وعدہ نہیں کیا یا اس کی ادائیگی میں سُستی کی ہے تو اس سے جماعت کو کیا ؟ خواہ تم فاقہ کرو، تکلیف برداشت کرو اس وعدہ کو ادا کرو۔ جن کے پاس رقوم ہیں وہ ابھی ادا کردیں اور جن کے پاس اب گنجائش نہیں وہ وعدہ کریں کہ جلد سے جلد کس دن ادا کر دیں گے۔ اگر اس طرح کیا گیا ہے تب تو جلسہ کا کوئی مطلب ہو اور نہ خالی تقریریں کسی کام کی نہیں ۔