خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 128

1951ء 128 خطبات محمود کسی بز دل سے بز دل آدمی کو میرے پاس لے آؤ میں اُس کے خون کے ساتھ ایک کیا کئی دستخط کروادوں گا۔ خون کے نکالنے سے کیا تکلیف ہوتی ہے۔ نلکی لگائی اور خون نکال لیا ۔ ایک دفعہ جتنا خون سوئی کے ساتھ باہر آ جاتا ہے اُس سے چالیس دستخط ہو سکتے ہیں۔ کام فن سیکھنے سے ہوتا ہے ۔ بجائے اس کے کہ تم دس دس ہیں ہیں ہو کر خون کے ساتھ کھیلو پچاس یا سو آدمی آ کر یہ کہو کہ ہم نے جنگی کام کی پوری سکھلائی کر لی ہے تم ہمارا ٹیسٹ لے لو تو تمہارا کام قدر کی نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ خالی خون سے دستخط کرنا نہایت لغو چیز ہے ۔ یہ کام دونوں طرف ہو رہا ہے ۔ ہندوستان میں بھی مہا سبھائی اور سنگھ والے معاہدات پر خون کے ساتھ دستخط کر رہے ہیں اور پاکستان میں بھی بعض لوگوں کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے معاہدہ پر خون کے ساتھ دستخط کیسے ہیں ۔ حالانکہ یہ نہایت معمولی بات ہے ۔ ایک شخص کا خون نکال کر بغیر اس کے کہ اُسے اِس بات کا احساس ہو پچاس دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ پرانے زمانہ میں فصد 4 لینے کا رواج تھا اور فصد میں آدھ آدھ سیر خون نکلوا دیا جاتا تھا اور آدھ سیر خون سے لاکھوں دستخط کیے جا سکتے ہیں ۔ حکماء لوگوں کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ موسم بہار کے شروع ہونے سے پہلے پہلے فصد لے لینی چاہیے تا اس موسم کا جسمانی صحت پر کوئی اثر نہ ہو۔ اور یہ فصد بادشاہ بھی نکلواتے تھے ، وزیر بھی نکلواتے تھے اور عوام بھی نکلواتے تھے۔ جالینوس نے بھی اپنی کتابوں میں فصد پر زور دیا ہے اور بوعلی سینا نے بھی فصد پر زور دیا ہے۔ اگر یہ ایسی خطرناک بات ہوتی تو ایک گھٹیا سے گھٹیا اور بزدل سے بزدل آدمی فصد کیوں نکلوا تا؟ خون کے ساتھ دستخط کرنے کا جرات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ جرات کا تعلق ارادہ اور عزم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر تم آ کر یہ بتاتے ہو کہ ہم نے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کر لی ہے اور ایک گھنٹہ روزانہ خرچ کر کے دو سال میں ٹریننگ مکمل کر لی ہے تو یہ بات بیشک قابل قدر ہو گی ورنہ نعرے مار لینا یا خون کے ساتھ دستخط کر دینا ملک اور قوم کے لیے کسی صورت میں بھی مفید نہیں ہو سکتا ۔ یہ بالکل لغو چیزیں ہیں ۔ اور اگر دنیا ایسا کرتی ہے تو اُسے کرنے سے الگ ہو جاؤ۔ اور خواہ ملک کے لیے قربانی کا سوال ہو یا مذہب کے لیے وہ راستہ قربانی کا اختیار کرو جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ نہ نعرے ملک کے کام آتے ہیں ، نہ وعدے دین کے کام آتے ہیں ، ٹیکسوں کا صحیح ادا کرنا اور دفاع کے اصول سیکھنا ملک کے لیے دو۔