خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 126

1951ء 126 خطبات محمود تو پھر کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی لوگ خود بخود اپنے اندر بیداری پیدا کر لیتے ہیں۔ جلسہ تو اتوار کو ہے لیکن شاید بیماری کی وجہ سے مجھے وہاں آنے کا موقع نہ ملے۔ اس لیے میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ لوگوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں ربوہ کی تمام مجلسیں، ادارے، پریزیڈنٹ صاحبان ، سیکرٹری مل کر ایسی کوشش کریں کہ ہر مرد اور عورت جس کے لیے مادی لحاظ سے تحریک جدید میں حصہ لینا ممکن ہے وہ اس میں حصہ لے اور پھر اپنے وعدہ کو جلدی سے پورا کرے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے جب باقی شرائط کو بھی پورا کیا جائے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ باقی شرائط پر ہمارے گھر میں بھی اب پوری طرح عمل نہیں ہو رہا۔ اور وہ شرائط سادہ زندگی بسر کرنا، فضول خرچی سے بچنا، زیورات اور کپڑوں پر زیادہ خرچ نہ کرنا ، ایک سالن کھانا، سینما اور تماشوں میں نہ جانا ۔ ہمیں پہلے یہ شکایت نہیں تھی کہ جماعت کے نوجوان سینماؤں میں جاتے ہیں لیکن اب بعض اوقات ایسی شکایات ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سارے تو نہیں لیکن ایک تعدا د نو جوانوں کی سینماؤں میں جاتی ہے۔ اگر سولر کا سینما میں جائے اور چار چار آنہ کا بھی ٹکٹ ہو تو تین سو روپیہ سالانہ ہمارا اس طرح ضائع ہوتا ہے۔ اگر یہ روپیہ تحریک میں جاتا تو اس سے عظیم الشان فائدہ ہوتا۔ پھر کھانے میں صحیح طور پر بچت کی جائے تو پانچ چھ روپے ماہوار کی بچت ہو جاتی ہے اور ایک غریب سے غریب آدمی بھی اٹھنی ماہوار بیچا لیتا ہے۔ اب اگر اٹھنی ماہوار کا بھی اندازہ رکھا جائے تو کتنی بچت ہو سکتی ہے۔ اگر جماعت کا ہر بچانے والا ٹھٹنی ماہوار بھی بچالے اور اس کا نصف بھی تحریک میں دے تو لاکھوں روپے کی آمد ہوسکتی ہے۔ ایک ایک آنہ بھی ماہوار آئے تو موجودہ بجٹ سے پچھتر ہزار روپیہ زیادہ کی آمد ہو سکتی ہے۔ اگر ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی رستہ ہوتا ہے اور اُسی رستہ کے ذریعہ اُس چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے وَأتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا ۔ 3 یعنی گھروں میں دروازوں کے رستہ داخل ہو۔ اگر تم دیواریں پھاند کر اندر داخل ہونا چاہو گے تو یہ طریق درست نہیں ہوگا ۔ اگر تم تلوار چلانا اور ہتھیار سے کام لینا سیکھو نہیں اور دفاع اور حملہ کے طریق نہ سیکھو بلکہ یونہی سینہ تان کر دشمن کے سامنے چلے جاؤ اور وہ تمہیں گولی مار کر ہلاک کر دے تو اس سے ملک کو کیا فائدہ ہوگا؟ اس سے تمہاری قوم کو کیا فائدہ ہوگا ؟ اگر چھوٹی سے چھوٹی تلوار بھی ہو، چاقو ہو یا ڈنڈا ہی ہو اور اُس سے کام لینے کا فن تمہیں آتا ہو تو تم قوم کے لیے مفید وجود بن سکتے ہو۔ لیکن اگر تمہیں تلوار یا لاٹھی چلانا نہیں آتا