خطبات محمود (جلد 32) — Page 125
1951ء 125 خطبات محمود اگر آدھ سیر آٹے میں رتی ڈیڑھ رتی نمک ڈالا جائے تو اس کا پتا بھی نہیں لگے گا بلکہ اگر اتنی مقدار نمک کی ایک لقمہ میں بھی ڈالی جائے تو وہ زیادہ محسوس نہ ہوگا۔ لیکن اتنی بات پر ہی ہم میں غفلت پیدا ہو گئی ہے حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ ہماری تبلیغ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچتی۔ پھر یہ بھی سوچو کہ سارے لوگ ہماری بات نہیں مانتے ۔ دس ، گیارہ لاکھ آدمی کے یہ معنے ہیں کہ ہزار، دو ہزار آدمی ہماری بات مانیں گے باقی لوگ ہمارے مخالف ہو جائیں گے یا بات سن کر اس پر عمل نہیں کریں گے۔ اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے کہ ہماری تبلیغ ساری دنیا میں پھیلے تو دس ہیں یا تمہیں ہزار کیا دو تین لاکھ آدمی ہماری باتیں سنیں اور انہیں مانیں تب کام ہو گا۔ پھر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی علاقہ میں سچائی پھیل جاتی ہے تو سارا ملک کا ملک اُس سچائی کو قبول کر لیتا ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس بھی پہلے ایک ایک کر کے آدمی آئے ، حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس بھی پہلے ایک ایک کر کے آدمی آئے ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی پہلے ایک ایک کر کے آدمی آئے پھر سب لوگ آ گئے ۔ اسی طرح اگر ہمارے پاس کسی جزیرہ کے لاکھ دولاکھ آدمی آ جائیں اور وہ وہاں کی آبادی کے تیس چالیس فیصدی ہو جائیں تو باقی ساٹھ ستر فیصدی ایک دن میں ایمان لے آئیں گے۔ پھر ایک جزیرہ سے دوسرا جزیرہ متاثر ہوگا اور وہاں کے لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اُس دن کو لانے کے لیے کوئی معیار تو ہونا چاہیے کہ ہماری تبلیغ اڑھائی ارب لوگوں میں پھیل جائے لیکن ہم دس پندرہ لاکھ سے بھی نیچے اُتر رہے ہیں۔ دفتر سے مجھے روزانہ کا غذات آتے ہیں کہ فلاں کام کو بند کر دیا جائے ، فلاں محکمہ کو توڑ دیا جائے کیونکہ اب سارا کام قرضہ پر چل رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سب سے بڑی ذمہ داری مرکز پر آتی ہے۔ قادیان باقی دنیا سے پوشیدہ ہے وہ صرف اب ہندوستان کا مرکز ہے۔ وہ اب بور نیو، ملا یا سماٹرا، جاوا، سلیبس 2 ، انگلینڈ، جرمنی، ہالینڈ، سوئٹزر لینڈ ، امریکہ، ایسٹ افریقہ یعنی ٹانگانیکا، کینیا کالونی اور یوگنڈا، مغربی افریقہ یعنی گولڈ کوسٹ، نائیجیریا، سیرالیون، عراق، شام، عرب، فلسطین، پاکستان اور سیلون وغیرہ کے سامنے نہیں۔ پس ہمیں مرکز کو پکڑنا چاہیے اور ہمیں مرکز میں کام اس قدر مکمل کر لینا چاہیے کہ ہم باہر کی جماعتوں کو چیلنج کر سکیں کہ مرکز نے اندر اس قدر تبدیلی پیدا کر لی ہے تمہیں بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی تحریکوں میں جو کامیابی ہوئی ہے اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ مرکز پکا ہوتا تھا۔ اور جب مرکز پکا ہوتا ہے اپنے