خطبات محمود (جلد 32) — Page 120
خطبات محمود 120 $1951 آج میں آپ لوگوں کو ایک حدیث کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اَللَا فِي الْجَسَدِ مُضْغَةٌ إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُله -1 خوب کان کھول کر سن لو کہ انسانی جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّه۔جب وہ گوشت کا لوتھڑا ٹھیک ہوتا ہے تو سارا جسم انسانی ٹھیک ہو جاتا ہے وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّه اور جب وہ لوتھڑ ا خراب ہو جاتا ہے تو سارا انسانی جسم خراب ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا اَلا وَ هِيَ الْقَلْبُ۔سنو! وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ قلوب کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ صُدُور میں ہیں۔قرآن کریم میں جب ” قلب “ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد وہی قلب ہوتا ہے جو سینہ میں ہوتا ہے اور وہ دل جو انسانی جسم کو خون مہیا کرنے والا ہے وہ بھی سینہ میں ہی واقع ہے۔اور لوگوں نے خصوصاً اس زمانہ کے سائنسدانوں کی اور تشریح ابدان والوں نے کہا ہے کہ وہ چیز جو انسانی اعمال ، افعال، ارادوں اور خواہشات کو منضبط کرتی ہے اور انہیں ایک نظام کے نیچے لاتی ہے آیا وہ دل ہے یا دماغ۔موجودہ سائنسدانوں کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ دل نہیں دماغ ہے۔سائنسدانوں سے ڈر کر بعض مسلمان علماء نے بھی قرآن کی آیات کی ایسی تفسیر شروع کر دی ہے جس سے یہ نکلتا ہے کہ قلب سے مُراد قلب انسانی نہیں اس سے مراد محض وہ مقام ہے جو انسانی جسم پر حکومت کرتا ہے چاہے وہ دماغ ہی ہو۔میرے نزدیک یہ تو جیہ محض ڈر کی وجہ سے ہے۔کئی لوگوں نے کوشش کی ہے کہ وہ سائنس کے ڈر کی وجہ سے قرآنی آیات کو موجودہ سائنس کے نظریات کے ماتحت کر دیں۔لیکن جہاں تک قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے میرے نزدیک قلب سے مراد وہی چیز ہے جو سینہ میں ہوتی ہے اور اس چیز کو دماغ قرار دینا محض دھینگا مشتی اس وقت میں اس حدیث کے لفظی معنوں کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا بلکہ اس کے عمومی استدلال کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اعمال کی صفائی دل کی صفائی کے ساتھ وابستہ ہے۔تم اپنے ہاتھوں کی صفائی کر کے پاک نہیں ہو سکتے تم اپنے منہ کی صفائی کر کے پاک نہیں ہو سکتے ، تم اپنے سر کی صفائی کر کے پاک نہیں ہو سکتے کیونکہ پاکیزگی کا منبع دل ہے۔لیکن اگر تم اپنے دل کی صفائی کر لو گے تو تمہارا منہ پاک ہو جائے گا تمہارے ہاتھ بھی پاک ہو جائیں گے، تمہارے پاؤں بھی