خطبات محمود (جلد 32) — Page 99
$1951 99 خطبات محمود نے اعتراض کیا ہے کہ قرآن کریم میں تکرار پایا جاتا ہے جس سے ہمارا دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔جہاں تک عقل کا تعلق ہے اس میں کوئی طبہ نہیں کہ اس تکرار کی وجہ سے ان کا دل اچاٹ ہو جاتا ہوگا لیکن جہاں تک دل کا تعلق ہے اس تکرار سے دل اچاٹ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایک شخص باہر سے آتا ہے اور ہمیں خبر دیتا ہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ میں ہفتہ کے دن تمہیں ملنے کو آؤں گا۔یہ کہہ کر وہ خاموش ہو جاتا ہے تو اس سے طبیعت گھبرائے گی نہیں۔لیکن اگر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر کہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ میں ہفتہ کے دن تمہیں ملنے کو آؤں گا۔پھر تیسری بار کہے کہ فلاں شخص نے کہا تھا کہ میں ہفتہ کے دن تمہیں ملنے کو آؤں گا تو دوسری دفعہ تو شاید ہم برداشت کر لیں لیکن تیسری بار ہم زچ ہو جائیں گے۔لیکن ہمارے سامنے ایک ماں اپنے بچہ کو اپنے ساتھ چمٹاتی ہے اور کہتی ہے میری جان، میری جان۔وہ ایک دفعہ کہتی ہے، دوسری بار کہتی ہے، تیسری بار کہتی ہے، چوتھی بار کہتی ہے بلکہ سویں دفعہ بھی اگر وہ اسے دہراتی ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں تنگ آ گیا ہوں چھوڑو اس قصہ کو۔پھر مصافحہ ہے جہاں تک عقل کا تعلق ہے ایک شخص ہم سے مصافحہ کرتا ہے پھر ہاتھ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔وہ اگر دوسری دفعہ مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے تو ہماری طبیعت گھبرا جاتی ہے۔پھر اگر وہ تیسری دفعہ ہاتھ بڑھاتا ہے تو طبیعت اور گھبرا جاتی ہے کیونکہ اُس کے ہمارے ساتھ ماں جیسے تعلقات نہیں۔لیکن ماں اپنے بچہ کو چومنا شروع کرتی ہے اور بعض دفعہ اتنا چومتی ہے کہ اُس کا چہرہ لال ہو جاتا ہے۔ہم مصافحہ کرنے والے کو زچ ہو کر یہ کہیں گے کہ چھوڑو بھی اس بات کو۔لیکن ماں کو یہ بات نہیں کہتے اور نہ ماں سے محبت کے جذبات رکھنے والا اور اُس کی پیار کی باتوں کو سننے والا اس بات پر کسی اعتراض کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔پس جہاں تک عقل کا سوال ہے قرآن کریم میں یہ بات دیکھ کر طبیعت زچ ہوگی کہ سلیمان کی کے ساتھ یوں واقعہ پیش آیا، داؤڈ کے ساتھ یوں ہوا۔پھر دس صفحے آگے چل کر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ابراہیم کے ساتھ یوں ہوا ، موسی کے ساتھ یوں ہوا ہیٹی کے ساتھ یوں ہوا۔ایک دو دفعہ تو انسان اس بات کو برداشت کر لیتا ہے لیکن پندرہ سولہ صفحات کے بعد پھر یہ لکھا ہوتا ہے کہ موسٹی کے ساتھ یوں ہوا، داوڑ کے ساتھ یوں ہوا، سلیمان نے یہ یہ قربانیاں کیں، عیسی نے یہ یہ قربانیاں کیں ، لوگوں نے فلاں فلاں نبی کے ساتھ یوں کیا۔غرض جو شخص عقلی طور پر قرآن کریم کو دیکھتا ہے لیکن اُس کی عادت