خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 69

$1951 69 خطبات محمود ملاقات کا وقت تھوڑا تھا اس لیے بجائے اس کے کہ وہ دونوں کو الگ الگ بلاتا اُس نے کہلا بھیجا کہ دونوں آ جاؤ۔جب ای۔اے سی ڈالی کو اٹھانے لگا تو تحصیلدار نے آگے بڑھ کر ڈالی کو اُٹھا لیا اور کہانی حضور! ہمارے ہوتے ہوئے آپ یہ تکلیف کیوں کریں؟ چنانچہ تحصیلدار نے ڈالی اُٹھالی اور بڑے آرام سے اندر جا کر انگریز افسر کے سامنے رکھ دی اور یہ نہ کہا کہ یہ ڈالی ای۔اے سی نے پیش کی ہے۔وہ انگریز افسر اس اثر کے ماتحت کہ ڈالی تحصیلدار نے پیش کی ہے ای۔اے سی کی طرف پیٹھ کر کے اور تحصیلدار کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا اور اس سے حالات پوچھنے لگا۔ای۔اے سی دل ہی دل میں گڑھ رہا تھا لیکن وہ کیا کر سکتا تھا برا بر دو گھنٹے تک ڈپٹی کمشنر تحصیلدار سے باتیں کرتا رہا اور اس نے ای۔اے سی کو پوچھا تک نہیں۔ملاقات سے فارغ ہو کر جب باہر آئے تو ای۔اے سی نے غصہ نکالنا شروع کیا کہ تم نے کیوں یہ حرکت کی؟ تحصیلدار نے کہا حضور! یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ آپ میرے سامنے بوجھ اٹھاتے۔اب ڈالی تو لایا تھا ای۔اے سی لیکن چونکہ وہ ڈالی تحصیلدار نے انگریز افسر کے آگے رکھی تھی اس لیے وہ اس پر مہربان ہو گیا۔یہی حال انسان کا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ڈالی آتی ہے لیکن ماں باپ، بیوی بچہ، بہن یا بھائی وہ ڈالی اُٹھا کر اُس کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ اصل ڈالی پیش کرنے والا وہی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کو پوچھتے ہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسان کو یہ یاد دلانے کے لیے کہ حقیقی محسن خدا تعالیٰ ہی ہے یہ ترکیب رکھ دی کہ جب تم کھا نا کھا دیا پانی پی تو اس کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کروح اور کھانے سے پیشتر بِسْمِ اللہ پڑھنے کے یہ معنے ہیں کہ یہ کھانا تمہارے سامنے رکھا تو ماں نے ہے لیکن بھیجا خدا تعالیٰ نے ہے یا کھانا تمہارے سامنے رکھا تو بیوی نے ہے لیکن بھیجا خدا نے ہے یا کھانا تمہارے سامنے رکھا تو بھائی نے ہے لیکن بھیجا خدا تعالیٰ نے ہے۔پھر کھانا کھانے کے بعد الْحَمْدُ لِلهِ کہہ کر خدا تعالیٰ کے احسان کا شکر یہ ادا کیا جاتا ہے۔غرض اسلام نے ہمیں ایسا گر سکھایا تھا کہ اگر مسلمان اس گر پر عمل کرتے تو یقینا محبت الہی پیدا کر لیتے۔لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس قیمتی چیز کو کہا جاتا ہے کہ معمولی بات ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کا کوئی اور گر بتاؤ۔کوئی کہے کہ گھوڑے کی سواری کا کیا گر ہے؟ تو دوسرا شخص یہی جواب دے گا میاں! گھوڑے پر چڑھ جاؤ اور اس کو چلاؤ یا کوئی کہے لکھنے کا کیا گر ہے تو دوسرا یہی کہے گا کہ