خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 67

خطبات محمود 67 $1951 میں نے گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا کہ اسلام نے خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے لیے ایک آسان گر بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ کھانا پینا اور پہننا خدا تعالیٰ مہیا کرتا ہے اور جب یہ سب چیزیں خدا تعالیٰ ہی مہیا کرتا ہے تو اس کا احسان موجود ہے لیکن باوجود اس کے کہ یہ گر موجود ہے پھر بھی خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے لیے ہمیں کوئی اور سبب تلاش کرنا پڑتا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ خدا تعالیٰ کا انسان پر احسان تو ہوتا ہے لیکن اس کی شناخت اور چیز ہے۔اگر کسی کو کوئی گمنام شخص منی آرڈر کر دے اور اپنا نام ظاہر نہ کرے تو اُسے منی آرڈر کرنے والے سے محبت نہیں ہوگی کیونکہ اُسے علم نہیں ہو گا کہ منی آرڈر کس نے کیا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی انسان سے مخفی ہے اور وہ پس پردہ احسان کرتا ہے اور اگر چہ اس کے احسان بہت زیادہ ہیں لیکن لوگ انہیں محسوس نہیں کرتے۔ماں اپنی چھاتیوں سے دودھ پلاتی ہے اور بچہ اپنی عقل کے مطابق سمجھتا ہے کہ ماں اُس پر احسان کرتی ہے، وہ سمجھتا ہے کہ ماں تکلیف سے اُسے خون چہاتی ہے حالانکہ یہ قربانی کا جذبہ ماں نے خود پیدا نہیں کیا یہ جذ بہ اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے اندر رکھا گیا تھا۔چھوٹی چھوٹی لڑکیاں گڑیاں بناتی ہیں اور اُن سے کھیلتی ہیں۔یہ وہی بچہ پالنے کا جذبہ ہوتا ہے جو ان کے اندر پایا جاتا ہے۔ان کے اندر یہ جس خدا تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہے خواہ وہ عقل کے ماتحت ایسا کرتی ہیں یا بے عقلی کے ماتحت ایسا کرتی ہیں بہر حال عورت کے اندر خدا تعالیٰ نے اولاد سے محبت کا مادہ رکھا ہے۔اور یہ وہ چیز ہے کہ جو ماں نے خود اپنے اندر پیدا نہیں کی بلکہ اس کی پیدائش سے بھی پہلے اس کے اندر رکھ دی گئی تھی اور جب یہ مادہ ماں کی پیدائش سے پہلے کا اُس کے اندر پایا جاتا ہے تو پھر یہ اُس کا پیدا کیا ہوا نہ ہوا۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ مادہ ماں کا پیدا کیا ہوا نہیں تو آخر یہ مادہ ماں کے اندر کس نے پیدا کیا ہے؟ بہر حال وہ کوئی اور ہستی ہے اور ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ہستی جس نے سب مخلوقات کو پیدا کیا ہے اُسی نے یہ مادہ ماں کے اندر رکھا ہے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ ماں سے محبت کرتا ہے خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کرتا۔کیوں بچہ خدا تعالیٰ سے محبت نہیں کرتا؟ اس لیے کہ خدا تعالیٰ اُسے نظر نہیں آتا۔جب اُس کی ماں اپنی ماں کے پیٹ میں تھی اور خدا تعالیٰ کے فرشتے اُس کے دل میں اولاد کی خواہش اور محبت پیدا کر رہے تھے تو اُس نے اس نظارہ کو دیکھا نہیں تھا۔اس نے صرف اتنا ہی دیکھا ہے کہ ماں اسے اپنی چھاتیوں سے دودھ پلا رہی ہے خواہ وہ فاقہ ہی کر رہی ہو اور بھوک کی وجہ سے نڈھال ہو رہی ہو، وہ سوکھ کر کانٹا۔