خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 33

$1951 33 خطبات محمود پیدا کر سکے ، اُن سے مل جل سکے ، اپنے خیالات اُن پر ظاہر کر سکے اور اُن کے خیالات سن سکے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ہمارے دوستوں کو یہاں رہتے ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں پھر بھی انہوں نے سندھی زبان سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔چنانچہ اگر کوئی سندھی مجھ سے آ کر بات کرے اور میں دوستوں کو اُس کا ترجمہ کرنے کے لیے کہوں تو مجھے بہت کم ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو سندھی زبان جانتے ہوں۔اور اگر کوئی شخص سندھی زبان جانتا بھی ہے تو ایسی غلط سلط کہ وہ پوری طرح دوسرے کا مفہوم بیان نہیں کر سکتا۔میرے نزدیک کسی ملک میں رہنا اور پھر وہاں کی زبان سیکھنے کی کوشش نہ کرنا یہ اس ملک کی مہمان نوازی کی ہتک ہے۔جب کوئی شخص کسی ملک میں رہنا شروع کر دیتا ہے تو اُس ملک کا ہر باشندہ میز بان ہوتا ہے اور اس ملک میں رہائش اختیار کرنے والا ہر فرد اُن کا مہمان ہوتا ہے اور مہمان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ میزبان کی زبان کو جانتا ہو تا کہ وہ اُس کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کر سکے اور اس کے خیالات سے خود واقف ہو سکے۔اگر وہ ملکی زبان نہیں جانتا تو اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہوگی جیسے کوئی عورت کہیں بیاہی جائے مگر وہ نہ تو اپنے خاوند کی زبان جانتی ہو اور نہ خاوند کے رشتہ داروں کی زبان جانتی ہو۔کسی ملک میں ہجرت کر کے چلے جانا اور وہاں بس جانا درحقیقت ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی عورت کی کہیں شادی کر دی جائے۔اور کوئی عورت سکھر کی زندگی بسر نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے خاوند اور اُس کے رشتہ داروں کی زبان نہ جانتی ہو۔بلکہ کوئی عورت صحیح معنوں میں بیوی کہلانے کی حقدار نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنے خاوند اور اُس کے رشتہ داروں کی زبان نہ جانتی ہو۔اسی طرح کوئی شخص اُس وقت تک کامیاب زندگی بسر نہیں کر سکتا جب تک وہ اُس ملک کی زبان پوری طرح نہ جانتا ہو جس میں اُس نے رہائش اختیار کی ہوئی ہو۔محض اس وجہ سے کہ یہاں نی پنجابی بولنے والے مل جاتے ہیں اگر تم سندھی زبان سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے تو یہ چیز تمہارے مجرم کو ہی ہلکا نہیں کر دیتی۔تمہارا دن رات اس علاقہ میں رہنا، اِس علاقہ کے طور طریق نہ سیکھنا ، یہاں کی زبانی نہ سیکھنا اور یہاں کے لوگوں سے ملنے جلنے کی خواہش نہ رکھنا بہت ہی قابل ملامت بات ہے۔ظاہری تکلیفیں جو کسی ملک یا علاقہ کی زبان نہ جاننے کی وجہ سے انسان کو پہنچتی ہیں اُن کو جانے دو اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے بھی ہماری جماعت کے افراد کو چاہیے کہ وہ سندھی زبان سیکھیں، سندھیوں سے میل جول اور تعلقات قائم کریں اور سندھیوں کے طور طریق سیکھنے کی کوشش کریں۔