خطبات محمود (جلد 32) — Page 27
$1951 27 خطبات محمود ہوتی ہے مگر انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون مستحق ہے اور وہ کس قسم کی مددکا محتاج ہے اس لیے وہ ثواب سے محروم رہتے ہیں۔اگر وہ ایک دوسرے سے ملیں تو انہیں معلوم ہوتا رہے کہ فلاں شخص مشکلات میں ہے، فلاں بیمار ہے، فلاں حاجت مند ہے اور ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے۔اس علم کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کئی لوگوں کے دلوں میں نیکی کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے اور وہ دوسروں کی تکلیف کو دور کرنے کا موجب بن جاتے ہیں۔دنیا میں تمام نیک کام کوئی ایک شخص سرانجام نہیں دیا کرتا۔کسی کے دل میں خدا تعالیٰ کوئی بات ڈال دیتا ہے اور کسی کے دل میں کوئی۔میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب چندوں کی تحریک ہوتی ہے تو کسی چندہ میں کوئی آگے نکل جاتا ہے اور کسی میں کوئی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ کسی کے دل میں حصہ لینے کی تحریک پیدا کر دیتا ہے اور کسی وقت کسی کے دل میں۔اگر آپس میں لوگ ملتے رہیں اور ایک دوسرے کے حالات سے انہیں واقفیت ہوتی رہے اور مساکین اور یتامی اور غرباء کے حالات انہیں معلوم ہوتے رہیں تو اللہ تعالیٰ کبھی کسی کو ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی توفیق بخش دے گا اور کبھی کسی کو۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ واقعات جمع کیے جائیں کہ سلسلہ پر کون کون سے نازک مواقع آئے اور ان نازک موقعوں پر کس کس شخص کو نمایاں طور پر خدمت سر انجام دینے اور نیکی میں حصہ لینے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو یہ ایک نہایت دلچسپ کتاب بن سکتی ہے اور لوگوں کو معلوم ہوسکتا ہے کہ سینکڑوں ایسے لوگ بعض مواقع پر نمایاں کام کر گئے جبکہ دوسرے موقعوں پر وہ بہت پیچھے رہے تھے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو ثواب میں شریک کرنا چاہتا ہے اس لیے کبھی کسی کو توفیق مل جاتی ہے اور کبھی کسی کو۔پس اگر جماعت کے دوست آپس میں ملتے رہیں تو انہیں ثواب کے مواقع بھی مل سکتے ہیں اور ایک دوسرے کی ہمدردی اور مواسات کا راستہ بھی ان کے لیے کھل سکتا ہے اور پھر تبادلہ خیالات کے نتیجہ میں ان کا علم بھی بڑھ سکتا ہے اور تبلیغ کی مشکلات کا بھی انہیں احساس ہوسکتا ہے۔مثلاً یہی بات دیکھ لو یہ سندھ کا صوبہ ہے جس میں اس وقت ہم لوگ موجود ہیں اور آپ لوگ مختلف مقامات سے یہاں آ کر جمع ہوئے ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو یہاں صرف ایک فیصدی سندھی نکلیں گے۔باقی سب لوگ وہ ہیں جو پنجاب سے آکر آباد ہوئے ہیں۔اب یہ ہے تو سندھ اور اس لحاظ سے آنے والوں کی