خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 226

$1951 226 خطبات محمود مقابلہ کیا جائے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریباً تین سو صحابہ کو لے کر دشمن کے مقابل کے لیے نکل کھڑے ہوئے مگر اس وقت تک صحابہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا مقابلہ قافلہ والوں سے ہو گا یا اصل لشکر سے ہوگا۔مگر اللہ تعالیٰ یہی چاہتا تھا کہ قافلہ سے نہیں بلکہ اصل لشکر سے مقابلہ ہو۔جب بدر کے قریب پہنچے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتایا کہ الہی منشا یہی ہے کہ مکہ کے اصل لشکر سے جو ابو جہل کی قیادت میں آ رہا ہے ہمارا مقابلہ ہو۔جہاں تک میرا مطالعہ ہے مجھے قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو مدینہ میں ہی یہ علم دے دیا گیا تھا کہ مسلمانوں کا کفار کے اصل لشکر سے مقابلہ ہو گا مگر ساتھ ہی آپ کو منع کر دیا گیا تھا کہ ابھی یہ بات صحابہ کو بتائی نہ جائے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب آپ باہر نکل آئے تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر اصل حقیقت کو ظاہر کیا گیا۔بہر حال جب کئی منزل طے کرنے کے بعد آپ بدر کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم ہوا کہ اب یہ بات صحابہ کو بتادی جائے یا اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر یہ امر ظاہر کیا گیا کہ قافلہ تو نکل گیا ہے اب صرف لشکر کے ساتھ مقابلہ ہو گا۔آپ کے باہر نکلنے کی غرض یہی تھی کہ ان کی لوگوں کا دفاع کیا جائے کیونکہ یہ لوگ مدینہ کے پاس پہنچ کر شور مچائیں گے کہ ہم مکہ سے چل کر آگئے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مدینہ میں ہی بیٹھے ہیں۔اس سے لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے متعلق تحقیر اور تذلیل کے خیالات پیدا ہوں گے اور ہمارا ان لوگوں میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ شام سے جو تجارتی قافلہ آ رہا تھا وہ تو نکل گیا ہے۔آب دشمن کا لشکر اس طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے۔بتاؤ! آب تمہاری کیا تجویز ہے؟ کیا ہم پیچھے ہٹ جائیں یا ان لوگوں کا مقابلہ کریں؟ اس پر ایک کے بعد دوسرا مہاجر کھڑا ہوتا اور کہتا یا رسول اللہ ! پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم دشمن سے لڑیں ورنہ وہ دلیر ہو جائے گا اور لوگوں میں فخر کرے گا کہ وہ باہر بھی آیا مگر مسلمان اُس کے مقابلہ کے لیے نہ نکل سکے۔مگر تقریر کرنے کے بعد جب بھی کوئی مہاجر بیٹھتا آپ فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔اس پر پھر کوئی مہاجر صحابی کھڑا ہوتا اور کہتا یا رسول اللہ ! مقابلہ کیجیے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔مگر جب وہ بیٹھ جاتا تو آپ پھر فرماتے اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔جب یکے بعد دیگرے کئی مہاجر اپنا مشورہ دے چکے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہاجر کی تقریر کے بعد یہی فرماتے کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو۔