خطبات محمود (جلد 32) — Page 223
$1951 223 خطبات محمود پس میں سوتے وقت ٹانگیں اُٹھا لیتا ہوں تا کہ اگر آسمان گرے تو میری ٹانگوں پر گرے دنیا تباہ نہ ہو۔اب ہے تو یہ ایک لطیفہ، جانوروں سے کون باتیں کیا کرتا ہے مگر پرانے زمانہ میں دستور تھا کہ حکمت کی بات جانوروں کے منہ سے بیان کی جاتی تھی۔ساری مثنوی رومی ایسی ہی حکایات سے بھری پڑی ہے۔اسی طرح کلیله دمنہ وغیرہ میں بھیڑیا یا شیر یا بلخ یا مرغوں کی زبان سے کئی داستانیں بیان کی گئی ہیں کیونکہ لوگ سمجھتے تھے کہ دوسروں کو حکمت کی بات سمجھانے کا یہ ایک مؤثر ذریعہ ہے اور اس طرح زیادہ آسانی کے ساتھ وہ دوسرے کی بات کو سمجھ لیتے ہیں۔اسی طرح اس لطیفہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب انسان کے اندر لوگوں کی خیر خواہی کا احساس ہو اور ان کی محبت موجزن ہو وہ ان کی محبت میں یہ نہیں دیکھا کرتا کہ میں کام کر سکتا ہوں یا نہیں بلکہ وہ اپنی قربانی پیش کر دیتا ہے۔یہ نکتہ ہے جو اس لطیفہ میں بیان کیا گیا ہے۔ایک چھوٹے سے جانور نے بھلا آسمان کو اپنی ٹانگوں پر کیا اُٹھانا ہے؟ اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ اُس کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت ہے۔وہ نہیں کہتا کہ کیا پڑی اور کیا پڑی کا شور با۔وہ اپنی ٹانگیں اُٹھا دیتا ہے تا کہ اگر آسمان گرے تو ان پر گرے لوگ اُس سے تباہ نہ ہوں۔اس لطیفہ کا مقصد کسی جانور کا قصہ بیان کرنا نہیں بلکہ یہ مقصد ہے کہ انسانوں میں سے ہر وہ انسان جس کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت ہوتی ہے وہ اپنی قربانی پیش کر دیتا ہے چاہے اس کا کچھ بھی نتیجہ ہو۔ہمیں بھی اسلام کی محبت کا دعوی ہے۔ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ نے قائم ہی اس لیے کیا ہے کہ وہ اسلام کو پھر اس کی بنیادوں پر مضبوطی سے قائم کر دے اور کفر کو شکست دے۔پس ہمارے لیے یہ سوال ہی نہیں ہونا چاہیے کہ ہمیں دین کی خدمت کے لیے کوئی بلاتا ہے یا نہیں۔بیشک اس وقت ایک نظام خدا تعالیٰ نے تم کو دے دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر میں کسی معاملہ میں نہ بھی بلاؤں اور تمہیں نظر آتا ہو کہ وہ دین کی خدمت کا کام ہے تو تمہارا فرض ہے کہ وہ کام کرو۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض بلانے پر بھی نہیں بولتے بلکہ اُن کے سامنے ہر وقت یہی سوال رہتا ہے کہ دیکھیے سرکار اس میں شرط یہ کھی نہیں وہ کہتے ہیں پہلے تین سال کہا تھا، پھر دس سال کر دئیے ، اب انیس کر دیئے ہیں۔مگر میں تمہیں کہتا ہوں کہ انیس سالوں کا بھی کیا ہے۔اگر ہزار سال تمہاری عمر ہو تو اگر تم عاشق صادق ہو تو یہ کام تم کو ہزار سال کر کے بھی تھوڑا نظر آنا چاہیے۔تم سے پہلوں کے ساتھ بھی بعض معین