خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 204

$1951 204 خطبات محمود مضمون خاص طور پر اذان کے ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتا بلکہ جب کوئی اصل بیان کیا جاتا ہے تو وہ اصل صرف اُس جگہ ہی کام نہیں آتا بلکہ وہ باقی امور کے متعلق بھی ہوتا ہے۔اس سے جہاں ہمیں اذان کی حکمت معلوم ہو جاتی ہے وہاں اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ تمام کام جو انسان کی طاقت سے بالا ہوں ان میں الہی مد مانگنی چاہیے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مد کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔پس اذان نے ہمیں اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ حقیقی مشکلات کا حل محض اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ محض صلوۃ اور فلاح ہی ایسے کام نہیں جو خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے بلکہ باقی عظیم الشان اور اہم امور بھی جن کے کرنے میں دنیا کے قوانین اور نیچر کے قوانین کا تعلق ہوتا ہے یا ان کا جماعتوں سے تعلق ہوتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ ہی مکمل ہوتے ہیں۔اول تو انسان کا ارادہ ہی اتنا کمزور ہے کہ وہ ایک کام کو اچھا بھلا دیکھ کر بھی اسے کرنے کی جرات نہیں کرتا۔اس میں اس کام کے کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔لیکن وہ اس کے کرنے کی جرات نہیں کرتا۔مثلاً سینکڑوں ہزاروں مسلمان تمہیں نظر آئیں گے جو کہیں گے کہ ہمیں پتا ہے کہ نماز خدا تعالیٰ کا حکم ہے لیکن سستی ہے اس لیے نماز پڑھی نہیں جاتی۔اب نماز تو ذاتی کام ہے لیکن باوجود اس کے کہ وہ اپنا کام ہے انسان اسے جرات اور دلیری کے ساتھ نہیں کرتا۔پھر جن کاموں میں دوسروں کی شراکت ہو وہ تو اس کی طاقت سے ہی بالا ہوتے ہیں۔اپنی ذات میں تو انسان کسی کام کا ارادہ کرلے تو وہ کر لیتا ہے لیکن دوسروں سے کام کرانا اُس کی طاقت سے بالا ہوتا ہے۔پس جماعتی کام خصوصیت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے۔مثلاً ایک زمیندار کھیت ہوتا ہے اب ہل چلانا اس کے اختیار میں ہے۔وہ اگر چاہے تو ہل چلا سکتا ہے مگر باوجود اس کے کہ یہ کام انسان کے اختیار میں ہوتا ہے وہ سستی کر جاتا ہے۔قادیان میں جب میں سیر کو جاتا تھا تو جب میں کسی اچھی فصل کے پاس سے گزرتا تھا تو اکثر لطیفہ کے طور پر میں کہتا تھا کہ یہ کھیت کسی سکھ کا معلوم ہوتا ہے اور اکثر میری رائے درست ہوتی تھی۔میرے ساتھی کہتے تھے کہ آپ کو یہ خیال کس طرح پیدا ہو گیا کہ یہ کھیت کسی سکھ کا ہے؟ تو میں کہتا تھا کہ اس کھیت میں فصل اچھی ہے اس لیے یہ کھیت کسی سکھ کا ہی ہو سکتا ہے۔کیونکہ سکھ محنت کرتا ہے مسلمان محنت نہیں کرتا اور بالعموم میرا اندازہ درست ہوتا تھا کہ جو بھی سرسبز اور اچھا کھیت ہوتا وہ کسی سکھ کا ہی ہوتا۔ہوسکتا ہے کہ ایک دو دفعہ مجھ کو