خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 193

$1951 193 خطبات محمود کتنا بلند ہوگا۔لیکن یہاں میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں آتی ہیں تو میرے سامنے ہی بچوں کو پاخانہ ای کرانے کے لیے بٹھا دیتی ہیں۔پھر اُس کو ہاتھ سے صاف کرتی ہیں۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ صفائی کا معیار اس حد تک کیوں گر گیا ہے۔پھر ناک پونچھنا ہے بالعموم ہمارے ہاں کپڑے کے ساتھ ناک پونچھ لیا جاتا ہے۔غرض گندگی کا احساس بہت کم ہے اور جب گندگی کا احساس اتنا کم ہو کہ پاخانہ ہاتھ سے صاف کر دیا اور پھر گلی میں پھینک دیا اور اگر ہاتھ گیلا ہوا تو پاجامے سے پونچھ لیا تو یہ بات کیسے دو بھر معلوم ہوگی کہ گندگی کو گلی میں پھینک دیا جائے۔ان کے نزدیک یہ بہر حال زیادہ صفائی کی چیز ہے اور عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ گھر سے گند اٹھایا اور گلی میں پھینک دیا۔گویا جو چیز سب سے زیادہ صاف ہونی چاہیے تھی اُس کو زیادہ گندا رکھا جاتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ جو ز ہر تین افراد کو نقصان پہنچاتی ہے ہے وہ اُس زہر سے بہت زیادہ خطرناک ہے جو ایک شخص کو نقصان پہنچاتی ہے۔اور جو زہر پچاس خاندانوں کو نقصان پہنچاتی ہے وہ اُس زہر سے زیادہ خطرناک ہے جو ایک خاندان کو نقصان پہنچاتی ہے۔اب اسلامی تعلیم تو موجود ہے کہ گلیوں میں گند نہیں پھینکنا چاہیے لیکن ہمارے ملک میں اس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔اس طرح اسلام کے اور احکام بھی ہیں جو آجکل پسِ پشت ڈال دیئے گئے ہیں۔مثلاً دکاندار ہے وہ سڑی ہوئی چیزیں بیچتا ہے اور یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ چیز جس گھر جائے گی وہاں نی بیماری پھیل جائے گی۔یہ بد دیانتی الگ ہے اور شہر سے دشمنی الگ۔جو شخص اس قسم کی حرکت کرتا ہے ہے اُسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ شہر میں رہے۔پھر انہی چیزوں کو پھیلاتے جاؤ تمہیں بیسیوں ایسی مثالیں ملیں گی۔مجھے اس مضمون پر خطبہ جمعہ پڑھنے کی تحریک اس وجہ سے ہوئی ہے کہ مجھے بد بو سے سخت تکلیف ہوتی ہے۔پرسوں شام بدبو کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف ہوئی اور معلوم ہوا کہ کہیں پتھر کے کوئلے جل رہے ہیں۔پاکستان کے کوئلے میں گندھک زیادہ ہوتی ہے اس لیے تجربات کیے جارہے ہیں کہ کوئلے سے گندھک کیسے دور کی جائے۔وہ کو کلے شاید لائن سے پارجل رہے تھے لیکن اُن کی بُو سارے ربوہ میں پھیلی ہوئی تھی۔شاید جلانے والے کو یہ خیال ہو کہ کوئلہ جلانے سے اسے روپیہ میں سے چار آنہ کی بچت ہے لیکن اُس میں شہریت کا احساس نہیں۔اُس نے یہ خیال کیا کہ مجھے روپیہ میں۔ނ