خطبات محمود (جلد 32) — Page 174
$1951 174 خطبات محمود جب تک کہ وہ بیماری کی صورت میں ہے اُس کا علاج ہے لیکن وہ چیز جو بظاہر بیماری ہے لیکن دراصل وہ موت کا پیغام ہے اس کا کوئی علاج نہیں۔پس انسان نے مرنا تو ہے لیکن بعض چیزیں تکلیف دہ پہلو اپنے ساتھ رکھتی ہیں۔اگر کسی کو اچانک موت آ جاتی ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ وہ حسرت ناک ہوتی ہے۔2 گو در اصل اچانک حادثہ کی وجہ سے جو موت آتی ہے وہ مرنے والے کے لیے آرام دہ موت ہوتی ہے۔مثلاً اگر وہ آٹھ دس دن ٹائیفائیڈ میں مبتلا رہتا ، راتوں کو جاگتا، تکلیف کی وجہ سے کراہتا اور پھر اُسے موت آجاتی تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موت اُسے بہر حال آنی تھی لیکن یہ موت اُس کے لیے تکلیف دہ ہوتی۔لیکن اگر اُس کا اچانک ہارٹ فیل ہو جاتا ہے یا اُسے گولی لگتی ہے اور وہ فورا مر جاتا ہے تو یہ موت بظاہر آرام دہ موت ہے لیکن اس لحاظ سے یہ تکلیف دہ ہوتی ہے کہ مرنے والے کو وصیت کا موقع نہیں ملتا۔اور قرآن کریم میں آتا ہے کہ اگر کسی کے سر ذمہ داری ہو جسے اُس نے ادا کرنا ہو تو اُس کے لیے وصیت کرنا ضروری ہے۔3 جب کسی کے پاس قومی اسرار ہوتے ہیں تو باپ بیٹے کو وصیت کرتا ہے، آگے بیٹا اپنے بیٹے کو وصیت کرتا ہے۔اسی طرح ایک سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے اور کوئی قوم کامیاب اُسی وقت ہوتی ہے جب اُس کا تسلسل قائم ہو اور تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے نصیحت اور وصیت کرنا ضروری ہوتا ہے۔لیکن اگر کسی کی اچانک موت ہو جائے تو یہ موقع اُس سے چھین لیا جاتا ہے اور جن باتوں کا مرنے والے کو تجربہ ہوتا ہے ، جن خطرات کا اُسے علم ہوتا ہے اور بعض فوائد جو اُس کے علم میں اس کی قوم حاصل کر رہی ہوتی ہے اگر اسے چند دن بیمار رہنے کے بعد موت آئے تو وہ اپنے جانشینوں کو بعض نصائح کر دیتا ہے۔وہ انہیں بتا دیتا ہے کہ فلاں فلاں فائدہ تم اس طرح حاصل کر سکتے ہو۔اور ساتھ ہی وہ یہ بھی بتا دیتا ہے کہ تمہارے سامنے فلاں فلاں قسم کے خطرات ہیں۔ان خطرات سے بچنے کا یہ طریق ہے۔اس رنگ میں اُس کی موت زیادہ تکلیف رہ نہیں ہوتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک موت کو تکلیف دہ اسی لیے فرمایا ہے کہ مرنے والے کو وصیت کا موقع نہیں ملتا اور اس طرح اُس کی اولاد، اُس کا خاندان اور اُس کی قوم اُس کے تجربات سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتی۔لیکن سب سے اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ ایسی موت جواچانک آ جاتی ہے مثلاً اگر کسی کی حرکت قلب بند ہو جاتی ہے اور وہ فور مر جاتا ہے تو کسی شخص پر افسوس نہیں ہوتا۔لیکن جب یہ موت کسی انسان کے ہاتھوں سے ہو تو جہاں تک مرنے والے کا سوال۔ہے