خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 169

$1951 169 خطبات محمود نہ ہوتی جو اُ سے یہ نکتہ سمجھا سکے اور غفلت کرنے والوں کو اس طرف متوجہ کر سکے تو انسان کہ سکتا تھا کہ مجھ پر حجت پوری نہیں ہوئی۔اگر ان مذاہب میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب زمانہ میں آئے یہ بات نہ ہوتی تو اُن کے تابعین اس غفلت کی سزا سے بچ سکتے تھے۔اگر قرآن کریم میں یہ بات بیان نہ ہوتی تو مسلمانوں پر حجت پوری نہ ہوتی۔لیکن جب خدا تعالیٰ نے اس چیز کو اتنا عام کیا ہے کہ ادنیٰ سے ادنی انسان کے اندر بھی یہ مادہ موجود ہے کہ وہ اس نکتہ کو سمجھ سکے تو پھر ان لوگوں کی کیا حالت ہو گی جن کے پاس تازہ وحی اور الہامات موجود ہیں۔جن میں قریب ترین عرصہ میں خدا تعالیٰ کا ایک مامور مبعوث ہوا۔وہ اس نکتہ کو کیوں نہیں سمجھ سکتے کہ اُن کی پیدائش کا اصل مقصد کیا ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں میں سوچنے کی عادت نہیں۔اور اگر سوچیں گے تو یہ کہ اُن کے پاس کیا کیا ڈگریاں ہونی چاہیں جن سے وہ دنیا میں ترقی حاصل کر سکیں۔حالانکہ اصل چیز یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کریں اور اُس سے دعائیں کریں باقی سب چیزیں تابع ہیں۔باپ کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ بیٹے کا ہوتا ہے۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے ساری کائنات اُس کی ہو جاتی ہے۔ہماری جماعت کے نوجوانوں کی توجہ چونکہ اس طرف کم ہے اس لیے میں نے آج اس موضوع پر خطبہ پڑھا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ نو جوانوں کی توجہ نمازوں اور دعاؤں اور ذکر الہی کی طرف کم ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی دنیوی کوششیں دعاؤں اور نمازوں اور ذکر الہی سے زیادہ قیمتی ہیں۔ان ان کے نزدیک دس ہزار روپے کمانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ غریب آدمی رات کے اندھیرے میں خدا تعالیٰ کے سامنے گر کر دعائیں مانگے حالانکہ دعا اتنی قیمتی چیز ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی نہیں کر سکتی۔قریب زمانہ میں ہٹلر اور مسولینی گزرے ہیں۔ان کے پاس کتنی طاقت تھی؟ پچھلی جنگ کے زمانے میں جو لوگ یہ کہتے تھے کہ انگریز بہٹلر اور مسولینی کو شکست دے دیں گے لوگ اُن پر ہنستے تھے لیکن اب وہ کہاں ہیں ؟ نپولین کتنا طاقتور تھا لیکن اب وہ کہاں ہے؟ زار کے متعلق جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ے زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار 2 اُس وقت اس کی طاقت کا اندازہ لگانا بھی مشکل تھا۔تم یورپ کی تاریخیں پڑھ کر دیکھ لو تمام