خطبات محمود (جلد 32) — Page 7
$1951 7 خطبات محمود احمدی پڑھتا ہی ہے صرف فرق یہ ہے کہ وہ نماز میں بعض خاص دعائیں کرے۔کچھ لوگ تہجد پڑھنے والے ہیں اور کچھ لوگ تہجد پڑھنے والے نہیں۔جو لوگ تہجد پڑھنے والے ہیں انہیں یہ دُعا ئیں تہجد میں کرنی ہیں اور جو لوگ تہجد پڑھنے والے نہیں انہوں نے دو نفل دن میں کسی وقت پڑھ کر ان میں یہ دعائیں کرنی ہیں۔اور یہ وہ کام ہے جس پر نہ کوئی خرچ آتا ہے اور نہ اس کے لیے کسی الگ تیاری کی ضرورت ہے۔زیادہ سے زیادہ دونفل پڑھنے ہوں گے اور اگر دو نفل بھی نہ پڑھے جاسکیں تو کم از کم مفروضہ نمازوں میں ہی یہ دعائیں کی جائیں۔بہر حال اس تحریک میں شامل ہونے کی وجہ سے انسان پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔جو شخص یہ کہے گا کہ میں اس تحریک سے باہر رہنا چاہتا ہوں وہ دوسرے الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ میں احمدیت میں صرف نام کے طور پر داخل ہونا چاہتا ہوں اس کے لیے کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہیں خواہ اس میں مجھے کوئی تکلیف بھی نہ ہو۔بعض دوستوں کو شبہ ہوا ہے کہ شاید آئندہ چالیس دنوں میں ربوہ میں خاص طور پر دعائیں ہوں گی یہ غلط ہے۔آئندہ چالیس دنوں میں اپنی اپنی جگہ پر بعض خاص دعا ئیں جن کا میں اعلان کر چکا ہوں کی جائیں گی۔میں یہ نہیں کہتا کہ اور دعائیں نہ کی جائیں بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ دعائیں خاص طور پر کی جائیں۔مثلاً میں نے کہا ہے کہ ان دنوں میں اَللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِی نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ 2 کی دعا خاص طور پر کی جائے یا تسبیح کے وہ کلمات جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنون ہیں اور جن کی احادیث میں خاص طور پر تعریف آئی ہے بار بار دہرائے جائیں اور درود جو دعاؤں کی قبولیت کا ایک ذریعہ ہے کثرت سے پڑھا جائے۔ان کے علاوہ اور دعائیں بھی کی جائیں۔اگر عربی میں اور دعائیں یاد ہوں تو وہ بھی کی جائیں۔اور اگر اپنی زبان میں زیادہ جوش کے ساتھ دعائیں کی جاسکتی ہوں تو اپنی زبان میں بھی دعائیں کی جائیں کہ خدا تعالیٰ ان پرفتن ایام میں جماعت کو محفوظ الی رکھے اور احمدیت کے دشمنوں کو ناکام و نامراد بنادے۔میرے اعلان کے مطابق چلہ کا پہلا دن آج سے شروع ہوتا ہے اور یہ چالیس دن تک جائے گا یعنی 27 مارچ تک۔اس عرصہ میں روزوں کی بھی تحریک کی گئی ہے اور یہ روزے بھی صاحب توفیق ہی رکھیں گے ہر ایک کو اس کے لیے نہ مجبور کیا جاسکتا ہے اور نہ وہ مجبور ہوتا ہے۔پھر اس میں بھی سہولت کر دی گئی ہے کہ جن کے فرضی روزے رہ گئے ہوں وہ انہیں فرض روزے سمجھ لیں اور اگر