خطبات محمود (جلد 32) — Page 133
خطبات محمود 133 $1951 بعض دفعہ تقریر کرنے والا سمجھتا ہے کہ اُس نے دھواں دھار تقریر کی ہے حالانکہ وہ دھواں دھار تقریر ہی کیا جس کے نتیجہ میں نہ کسی نے وعدہ کیا اور نہ کسی نے اپنا وعدہ پورا کیا۔وہ خالی دھواں ہو سکتا ہے جس کے تلے آگ نہیں۔وہ محض مٹی اور غبار تھا جو اُڑا اور نہ جہاں آگ لگی ہو وہاں عشق کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ حقیقی دھواں ہو اور پھر اُس کے نیچے آگ نہ ہو۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ تمہارے اندر آگ ہو اور تمہارا ہمسایہ اُس سے کوئی اثر قبول نہ کرے۔اگر تمہارے گھر کو آگ لگتی ہے تو اول تو تمہارے ہمسایہ کا گھر بھی جل جاتا ہے ورنہ وہ جھلستا ضرور ہے۔اس رح اگر تمہارے دل میں آگ لگی ہوئی ہے تو تمہارے ہمسایہ کے اندر بھی آگ لگ جائے گی۔اگر آگ نہیں لگتی تو وہ بیتاب ضرور ہو جائے گا۔پس اگر ان تقریروں کے نتیجہ میں سننے والوں کے اندر آگ نہیں لگی تو پھر یہ کس قسم کی دھواں دھار تقریریں تھیں؟ نہ تو وہاں دھواں نظر آتا ہے، نہ دھار نظر آتی این ہے صرف زیب داستاں کے لیے رپورٹیں بھیج دی جاتی ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ساری جماعتوں نے ایسا کیا ہے۔ان رپورٹوں میں سے جو میرے پاس آئی ہیں بعض ایسی بھی ہیں جو بہت خوش گن ہیں۔جماعت کے دوستوں کو بلا کر اُن پر زور دیا گیا ہے کہ وعدے ادا کرو اور اگر وعدے نہیں کیسے تو آب وعدے کر و اور یہ وعدے جلد ادا کرو۔غرض ان سے معین صورت میں وعدے لیے گئے ہیں۔لیکن نصف کے قریب رپورٹیں ایسی ہیں جن میں صرف قلم سے لکھ دیا گیا ہے کہ دھواں دھار تقریریں کی گئیں لیکن نہ اُن میں دھواں تھا اور نہ دھار تھی۔ان کے نتیجہ میں نہ کسی نے وعدہ کیا اور نہ کسی نے وعدہ ادا کیا۔حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ جماعت کے دوستوں کو بلا کر اُن سے پوچھا جاتا کہ وہ وعدے کب ادا کریں گے؟ دس دن کے بعد ادا کریں گے یا پندرہ دن کے بعد ادا کریں گے؟ اور اگر وہ کہتے کہ ہمیں تکلیف کی ہے تو انہیں کہا جاتا تم نے یہ مشکل خود اپنے لیے پیدا کی ہے۔اگر پہلے سے اس طرح توجہ کرتے تو یہ مشکل پیدا نہ ہوتی۔اب اگر تم تکلیف میں پڑ گئے ہو تو اس کی سزا تمہیں بھگتنی پڑے گی اس کی سزا سلسلہ کیوں بھگتے ؟ اگر ایسا کیا جاتا تو لازمی بات تھی کہ اس کا نتیجہ فورا نکلتا۔لیکن بعض لوگوں کی طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی تعریف آپ کرنا چاہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے وہ وہ دلائل دیئے ہیں، ہم نے وہ وہ باتیں کی ہیں کہ کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آ سکتیں اور اس طرح وہ اپنی تعریف کے پل باندھ دیتے ہیں۔لیکن وہ سب دلائل اور باتیں رطب و یابس ہوتی ہیں۔