خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 2

$1951 2 خطبات محمود یہ واقعات کیونکر ظہور پذیر ہوتے کہ خاوند اپنی بیوی کو قتل کر دیتا ہے اور بیوی اپنے خاوند کوز ہر دے کر مار دیتی ہے۔رات کو میاں بیوی دونوں اکٹھے لیٹتے ہیں بیوی اپنے لحاف میں بے خوف لیٹی ہوئی ہوتی ہے اور مجھتی ہے کہ اس کا ایک محافظ یعنی خاوند گھر میں موجود ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ یہی محافظ گنڈا سے سے اس کا سرکاٹ دے گا۔ایک خاوند اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر خوشی خوشی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ میرے گھر میں ایک محافظہ موجود ہے۔بیوی کھانا پیش کرتی ہے ، وہ تھالی اپنی طرف کھینچتا ہے اس خیال سے کہ اس کے گھر کی محافظہ اور بیوی نے کھانا تیار کیا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ ہر لقمہ جو وہ اٹھاتا ہے وہ کافی مقدار میں زہر اُس کے اندر ڈال رہا ہے جو چند منٹوں میں اس کا خاتمہ کر دے گا۔پس بات یہ ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے لیکن پھر بھی ہر سال اپنے ساتھ نئی امنگیں لاتا ہے، ہر نیا دن اپنے ساتھ نئی نئی اور جدید ترین امیدیں لے کر آتا ہے۔بعض لوگ ان اُمیدوں اور اُمنگوں کا خیال کرتے ہوئے کچھ عمل بھی کر لیتے ہیں اور بعض لوگ آنکھیں کھولتے ہیں، حیرت کے ساتھ اپنے دائیں بائیں دیکھتے ہیں اور پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔نہ کوئی تغیر ان کے اندر پیدا ہوتا ہے اور نہ کوئی تبدیلی۔سورج چڑھتا ہے اور ڈوب جاتا ہے ، سال آتا ہے اور گزر جاتا ہے اُن کی زندگی محض اُس لکڑی کی سی حیثیت رکھتی ہے جو دریا میں پڑی ہوئی ہو اور لہروں کے ساتھ بہتی جارہی ہو۔دریا کی لہر یں اس کے اندر ارتعاش پیدا کرتی ہیں اور دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ وہ لکڑی کا نپتی ہے ، وہ لکڑی ہلتی ہے یا وہ لکڑی چلتی ہے لیکن در حقیقت نہ وہ لکڑی کا نپتی ہے، نہ چلتی ہے اور نہ حرکت کرتی ہے وہ صرف دریا کی لہروں سے متاثر ہوتی ہے۔اسی طرح وہ انسان ہوتا ہے جس کے اندر نہ ارادہ ہوتا ہے، نہ اس کے اندر قوت عملیہ ہوتی ہے اور نہ اس کے اندر کوئی حرکت ہوتی ہے وہ محض دریا میں بہنے والا ایک لٹھ لکڑی یا گیلی 1 ہے۔مگر خدا تعالیٰ مومن سے یہ نہیں چاہتا۔وہ انسان کو ایک طرف تو یہ کہتا ہے تم میری صفات پنے اندر پیدا کروح اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ - 3 تم پر تو سالوں گزر جاتے ہیں لیکن تم اپنا چولہ نہیں بدلتے لیکن میں ہر روز ایک نئی شان میں جلوہ گر ہوتا ہوں۔ایک زہریلا سانپ ، زمین میں رینگنے والا کیڑا اور زمین کے اندھیروں میں رہنے والا زہر یلا جانور ہر چھ ماہ کے بعد اپنی پینچلی بدل دیتا ہے۔وہ ہر چھ ماہ کے بعد اپنا چمڑا اُتار دیتا ہے اور اپنے آپ کو ایک نیا رنگ