خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 95

$1951 95 خطبات محمود میں اس نے ایک بات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی اور وہ یہ ہے کہ وہ سب خوبیوں ، سب نیکیوں اور سب اچھائیوں کا مالک ہے اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ کسی غمزدہ اور مصیبت زدہ کی مدد کرے۔گویا انسان خدا تعالی کو پہلے تو تمام عیوب اور نقائص سے مبرا اور منزہ قرار دے اور دوسرے قدم پر اس کی تعریف کرے۔اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مصیبت زدہ کی مدد کرتا ہے اور سب خوبیاں اُسی کی طرف سے آتی ہیں۔گویا دوسرے الفاظ میں اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ میں بھی اس کی مدد کا نی محتاج ہوں۔گویا خدا تعالیٰ کی تسبیح کر کے اس سے ہر قسم کے عیب اور نقص کو دور کر دیا اور پھر اس کی تعریف کر کے اس کے فضل کو بھی طلب کر لیا۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاسْتَغْفِرُهُ - 2 اللہ تعالیٰ کی مدد تو آتی ہے لیکن اگر تم ایک بند گھڑے پر پانی ڈالتے ہو تو وہ پانی گھڑے کے اندر نہیں جاتا بلکہ گھڑے پر سے نیچے گر جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی مدد کسی انسان کے کام نہیں آتی جب تک وہ اپنے آپ کو اُس کا مستحق نہیں بنالیتا، جب تک اُس کے گھڑے کا منہ کھلا نہ ہو، تا خدا تعالیٰ کی رحمت کا پانی اُس میں پڑ سکے۔اگر خدا تعالیٰ کی رحمت کا پانی اُس کے گھڑے میں نہیں پڑتا تو وہ خدا تعالیٰ کی مدد سے محروم ہو جائے گا۔اسی لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نے خدا تعالیٰ سے اُس کی رحمت طلب کی ہے تو ساتھ ہی یہ بھی طلب کرو کہ وہ خطائیں جو خدا تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے سے روکتی ہیں معاف ہو جائیں تا خدا تعالیٰ جب اپنا فضل اور رحمت نازل کرے تو اُس کا برتن کھلا ہو، تا خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کا پانی اُس کے اندر داخل ہو جائے۔پھر انسان کے اندر ایک وسوسہ پیدا جاتا ہے اور یہی وسوسہ انسان کو دعا اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے سے محروم رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کہاں اور ہم کہاں؟ ہماری خدا تعالیٰ سے کیا نسبت؟ کیا پدی اور کیا پدی کا شور با۔چنانچہ ایک تعلیم یافتہ گروہ کہتا ہے کہ بیشک خدا ہے لیکن اُسے کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ ہمارے سب کاموں میں دخل دے۔یہی وسوسہ ہے جو اس گروہ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں سے محروم کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا - 3 یہ مت خیال کرو کہ خدا کہاں اور ہم کہاں؟ وہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا اور ہم ایک چھوٹے سے براعظم کے ایک چھوٹے سے ملک اور پھر ایک چھوٹے سے گاؤں کے