خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 94

$1951 94 خطبات محمود اور راحت کی گھڑیاں آتی ہیں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ کوئی انسان کسی ایسی چیز پر تسلی پاسکے جو غیر طبعی جائز خوشی بھی ایک طبعی چیز ہے اور جائز غم بھی ایک طبعی چیز ہے۔لیکن بعض اوقات جائز غم بھی غیر طبعی بن جاتا ہے اور جائز خوشی بھی غیر طبعی بن جاتی ہے۔جب کسی دوسرے شخص کو رنج پہنچتا ہے تو جائز خوشی بھی ناجائز ہو جاتی ہے۔مثلاً کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو یہ بات اس کے لیے جائز خوشی کی ہے۔لیکن فرض کرو وہ ایک دوست کے ساتھ باتیں کر رہا تھا کہ ایک پیغامبر نے اُسے یہ خبر دی کہ تمہارے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے، تمہیں مبارک ہو۔مگر وہ دوست جس کے ساتھ وہ باتیں کر رہا ہے اُسے یہ پیغام ملتا ہے کہ اُس کا نوجوان بیٹا فوت ہو گیا ہے۔اب جہاں تک خوشی کی بات ہے وہ ایک طبعی چیز ہے لیکن اُس موقع پر اُس شخص کا خوشی کا اظہار کرنانا جائز ہے۔بیشک خوشی طبعی چیز ہے لیکن اُس وقت اُس کا اظہار اور اسے اپنے نفس پر غالب آنے دینا نا جائز ہوگا کیونکہ جب اُسے خوشی کی خبر پہنچی تو دوسرے کو رنج پہنچانے والا پیغام ملا اور اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی خوشی کو دبائے بلکہ اگر اسے اپنے دوست کے ساتھ کامل محبت ہے تو اس کے غم سے اس کی خوشی دب جانی چاہیے۔ان غیر طبعی باتوں کا علاج خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے کہ جب کسی گھر پر کسی خاندان پر کسی قوم یا ملک پر مصائب آتے ہیں تو سب سے پہلی چیز جسے مد نظر رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ انہیں تسبیح سے کام لینا چاہیے۔تسبیح کیا ہوتی ہے؟ تسبیح اللہ تعالیٰ کے تمام عیوب سے پاک ہونے کا اقرار ہے۔جب کسی انسان کو غم پہنچتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ تم میرے ساتھ مخصوص ہیں خدا تعالیٰ ان سے پاک ہے۔گویا وہ نقص اور کمزوری کو پورے طور پر اپنے اردگرد لے لیتا ہے۔اگر وہ تسبیح نہ کرے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کو تمام نقائص اور کمزوریوں سے منزہ قرار دے دینے کی طرف اسے توجہ نہیں۔لیکن جب وہ کہتا ہے سُبْحَانَ الله تو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ سب عیوب، نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے۔گویا وہ سُبْحَانَ اللہ کہ کر اپنے عیوب اور نقائص سے خدا تعالیٰ کو پاک قرار دے لیتا ہے۔ނ پھر فرماتا ہے فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ - 1 خدا تعالیٰ کو صرف عیوب اور نقائص پاک قرار ہی نہ دو بلکہ ساتھ ہی یہ اقرار بھی کرو کہ ہر قسم کی نیکیاں ، ہر قسم کی خوبیاں اور ہر قسم کی اچھائیاں خدا تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہیں۔گویا پہلے تو اُس نے خدا تعالیٰ سے ایک چیز کو سلب کیا تھا مگر دوسرے فقرہ