خطبات محمود (جلد 31) — Page 1
$1950 1 1 خطبات محمود وقت کی نزاکت کو محسوس کرو اور خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر کرو جو اس نے تمہیں دی ہے (فرموده 13 جنوری 1950ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مجھے جلسہ سالانہ کے بعد پہلے زکام کی شکایت رہی پھر بخار ہو گیا۔اس کے بعد کھانسی کی تکلیف کی ہوگئی۔بخار تو اب اُتر چکا ہے لیکن کھانسی اور نزلہ ابھی تک باقی ہیں۔جس کی وجہ سے مجھے آج خطبہ جمعہ تو نہیں پڑھانا چاہئے تھا کیونکہ گلے کی سوزش کی ابھی ایسی حالت ہے کہ تھوڑا سا بولنا بھی گلے کے لئے مضر ہوسکتا ہے۔اور جیسا کہ آپ لوگوں کو میری آواز سے معلوم ہوسکتا ہے میرا گلا ابھی تک بیٹھا ہوا ہے اس کی وجہ سے تھوڑی سی تقریر کرنا بھی تکلیف پیدا کر سکتا ہے۔لیکن چونکہ پچھلا خطبہ جمعہ میں بیمار ہونے کی وجہ سے نہیں پڑھا سکا اور نئے سال کی ذمہ داریوں کی طرف جماعت کو توجہ دلانا بھی ضروری ہے اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ گو مختصر الفاظ میں ہی سہی مگر آج کا خطبہ میں خود پڑھوں۔پیشتر اس کے کہ میں خطبہ کے مضمون کی طرف توجہ کروں میں اس امر پر اظہار افسوس کرنا چاہتا ہوں کہ پرسوں یہاں ایک پرانے صحابی کا جنازہ آیا جس کے والد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب ترین صحابہ میں سے تھے اور آپ کے ایک بہت بڑے نشان کے حامل تھے۔لیکن یہاں کے کارکنوں نے ایسی بے اعتنائی اور غفلت برتی جو میرے نزدیک ایک نہایت شرمناک حد تک پہنچی ہوئی ہے۔جنازہ مہمان خانہ میں لایا گیا مگر کسی نے تکلیف گوارہ نہ کی کہ وہ اُس کی طرف توجہ کرے اور نہ ہی جنازہ کا مسجد