خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 27

$1950 27 خطبات محمود دعاوی کا اُسے علم تھا یا نہیں مغربی تعلیم کے اثر کے نیچے کالج اور سکول سے یہ عقیدہ لے کر نکلا کہ یہ کوئی ہے معقول بات نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ بیٹھے ہوئے ہیں۔اور اس طرح وہ ایک ایسے ہی نقطہ نگاہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا قائل ہو گیا جس کا قرآن کریم سے تعلق نہیں تھا صرف سائنس سے تعلق تھا یا فکر کے ساتھ اس کا تعلق تھا۔چنانچہ جب ایسے شخص سے کہا جائے کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ فورا یہ جواب دیتا ہے کہ ایسے قرآن کو اپنے گھر رکھو میں ان باتوں کا قائل نہیں۔اس کے مقابلہ میں ایک احمدی بھی یہی عقیدہ رکھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔لیکن ایک احمدی میں اور مغربی تعلیم کے اثر کے نیچے وفات مسیح کا قائل ہونے والے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔جب دوسرے شخص سے کوئی کہتا ہے کہ قرآن میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ کہتا ہے میں ایسے قرآن کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔بات یہی ہے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں موجودہ سائنس کے بالکل خلاف ہے۔لیکن جب ایک احمدی سے یہ کہا جائے کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ کہتا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔قرآن سچا ہے، قرآن کی ایک ایک بات سچی ہے اور اس میں یہی لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔غرض دونوں کہتے ایک ہی بات ہیں مگر ہماری جماعت کے افراد قرآن کریم کو سچا سمجھتے ہوئے یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور وہ قرآن کریم کو چھوڑ کر یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔بہر حال جب مسلمانوں میں تعلیم پھیلی تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ اُنہوں نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔اب جب مولویوں نے دیکھا کہ مسلمانوں نے خود یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ حضرت عیسی فوت ہوچکے ہیں تو اُنہوں نے صحیح فیصلہ کیا کہ اب ہمیں اور طرح ان کے جذبات سے کھیلنا چاہیے۔یہی بات بتاتی ہے کہ اُن کی بنیاد دلائل اور عقل پر نہیں تھی بلکہ جذبات پر تھی۔اگر دلائل اور عقل پر بنیاد ہوتی تو جب انہوں نے یہ دیکھا تھا کہ مسلمانوں نے اب خود ہی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو وہ کہتے ہم سے غلطی ہو گئی تھی۔لیکن ان کی غرض تو جذبات سے کھیلنا تھی اُنہوں نے اب ایک اور رنگ میں لوگوں کے جذبات سے کھیلنا شروع کر دیا اور یہ کہنے لگے عیسی مر گیا ہو یا نہ مرا ہو مرزا صاحب تو یہ کہتے ہیں کہ میں خدا کا نبی ہوں اور ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم