خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 25

$1950 25 خطبات محمود گے کہ ایک سے زیادہ قانون ہیں۔اسی طرح لوگ یا تو یہ فیصلہ کر لیں گے کہ بتوں نے بھی لوگوں کی دعائیں سنی ہیں اور اپنے ماننے والوں کی تائید کی ہے اور یاوہ یہ فیصلہ کر لیں گے کہ بتوں میں کوئی طاقت نہیں کہ وہ کسی کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔مگر یہ عقلی طریق ہے جس کی دلائل پر بنیاد رکھی جاتی ہے۔اور جذباتی طریق یہ ہوتا ہے کہ ایک بت پرست کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے سنو! یہ توحید کے پرستار کیا کہتے ہیں۔یہ کہتے ہیں تمہارے باپ دادا اتو تھے تمہارے باپ دادا گدھے تھے، تمہارے باپ دادا بڑے بڑے خبیث تھے جو بتوں کے آگے سر جھکاتے رہے اب کون یہ شخص ماننے کے لئے تیار ہو گا کہ میرے باپ دادا واقع میں اُلو تھے یا گدھے تھے یا خبیث اور نا پاک انسان تھے۔آخر کافر کو بھی اپنے ماں باپ سے محبت ہوتی ہے اور وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ انہیں برا بھلا کہا ت جائے۔جب وہ ان کے سامنے شرک کو اس رنگ میں پیش کرتا ہے کہ تمہارے باپ دادا اسے مانتے تھے اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بڑے اُلو تھے ، بڑے احمق تھے، بڑے خبیث اور بے ایمان تھے۔وہ جانتے تھے کہ ان بتوں میں کوئی طاقت نہیں مگر پھر بھی وہ فریب سے کام لے کر ان کے آگے اپنا سر جھکا دیتے تھے۔تو لوگوں میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کی بات کیوں ما نہیں یہ تو ہمارے باپ دادا کو الو قرار دیتا ہے یہ تو انہیں احمق اور گدھا قرار دیتا ہے گویا دلیل غائب ہوگئی۔ایک قانون کی موجودگی کا کوئی سوال ہی نہ رہا بلکہ سوال یہ آ گیا کہ یہ ہمارے باپ دادا کو ا تو کہتا ہے ، یہ انہیں احمق اور گدھا کہتا ہے ، یہ اعلان کرتا ہے کہ جو شخص ایک خدا کو چھوڑ کر بتوں کے آگے سر جھکاتا ہے وہ بیوقوف ہے اور بے وقوف گدھا ہوتا ہے۔پس اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ ہمیں اور ہمارے باپ دادا کو گدھا قرار دیتا ہے۔یہ کہتا ہے کہ جو شخص سچائی کے خلاف کام کرے وہ بے ایمان ہوتا ہے اور پھر یہ کہتا ہے کہ توحید ہم سب سے بڑی سچائی ہے۔جب تو حید سچائی ہوئی تو جو اس سچائی کے خلاف چلتا ہے وہ بے ایمان ہے۔گویا دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمارے باپ دادا بے ایمان تھے۔اور جو بے ایمان ہو وہ خبیث بھی ہوتا ہے اور زندیق بھی ہوتا ہے۔اب یہ لازمی بات ہے کہ جب بات کو اس رنگ میں پیش کیا جائے گا تو دلیل غائب ہو جائے گی اور یہ لوگ کہنا شروع کر دیں گے کہ انہیں مارڈالو، انہیں قتل کر دو، ان کا مال و اسباب چھین لو، انہیں ملک سے نکال دو کیونکہ یہ ہمارے باپ دادا کو احمق گدھا بے ایمان اور خبیث قرار دیتے ہیں۔غرض جب کسی بات کے ساتھ جذبات مل جاتے ہیں تو دلیل کمزور ہو جاتی ہے۔