خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 260

$1950 260 خطبات محمود کی کیا بات ہے۔حالانکہ جس شخص کو روپیہ کی رسید نہیں پہنچے گی وہ تو سمجھے گا کہ میرا روپیہ ضائع ہو چکا ہے۔انسان روپیہ سے زیادہ قیمتی ہے۔ایک شخص رسید نہ ملنے کی وجہ سے جو انگاروں پر کوشتارہا اور دو ماہی تک اُس کے اعصاب پر اثر پڑا وہ روپیہ سے زیادہ قیمتی ہے۔پس روپیہ ملتے ہی فورا رسید بھیج دینی چاہیے اور جماعت سے ہر ممکن سے ممکن تعاون کرنا چاہیے۔ہماری جماعت لاکھوں کی ہے آٹھ دس لاکھ روپیہ کی آمد کوئی چیز نہیں ہے۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر صیغہ امانت کو منظم کیا جائے تو کروڑ دو کروڑ روپیہ کا اکٹھا ہو جانا بھی مشکل امر نہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر تحریک جدید پورے طور پر کام کرے اور وہ امانت رکھنے والے کو روپیہ بھیجنے اور روپیہ واپس لینے پر جو اخراجات ہوں وہ دے دے تب بھی وہ نفع میں رہے گی۔اور اگر نفع میں نہ بھی رہی تب بھی ضرورت کے وقت روپیہ جو کام دے دیتا ہے وہ کم فائدہ نہیں۔مثلاً امریکہ سے تار آئی ہے کہ جلد روپیہ بھیجو اور خزانہ میں روپیہ نہیں تو امانت میں سے ہم روپیہ لے سکتے ہیں اور اس طرح اپنی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔اگلے ماہ چندہ جمع ہو جائے گا تو وہ واپس کر دیا جائے گا۔غرض اگر تحریک جدید یہ فائدہ اٹھائے اور اس کے بدلہ میں روپیہ کے آنے اور جانے کے اخراجات دے دے تو میں سمجھتا ہوں تحریک جدید پھر بھی فائدہ میں ہے۔“ الفضل مورخہ 19 دسمبر 1950ء) 1 کنز العمال جلد 16 صفحہ 599 حديث نمبر 46004 مكتبة التراث العلمى حلب 1977ء 2 سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 262 263 مطبوعہ مصر 1936 ء(مفہوماً)