خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 253

$1950 253 خطبات محمود گئے۔اسی طرح احمدیت کا بھی حال ہے۔بعض لوگوں کے دل صاف ہو رہے ہیں اور وہ جماعت میں داخل ہور ہے ہیں اور کچھ نیچے سے بھی پانی پھوٹ رہا ہے۔یعنی اس کی نسل عام قانون کے ماتحت بھی اور خاص قانون کے مطابق بھی ترقی کر رہی ہے۔وہ ایک دریا کی صورت میں بہتی چلی جاتی ہے۔لیکن یہی دریا مضر بھی ہو سکتا ہے۔اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو ہوسکتا ہے اس میں طغیانی آجائے اور وہ اردگرد کے دیہات کو گرا دے اور اردگرد کی زمین کو غیر آباد کر دے۔لیکن اگر اسے قبضہ میں رکھا جائے اور کسی قانون کے مطابق اس سے کام لیا جائے مثلاً جماعت کی صورت میں اس کی صحیح تربیت کی جائے اور اس کے اندر جذبہ قربانی پیدا کیا جائے تو یہی طاقت اتنی مضبوط ہو سکتی ہے کہ ہزاروں ہزار میل تک اثر کر سکتی ہے اور ترقی میں ممد و معاون ہوسکتی ہے۔غرض نئی نسل کو کام پر لگانا ہوگا اور اس کے اندر دینی ذوق پیدا کرنا ہی اصل کام ہے۔پرانی نسل کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی چشمہ یا دریا کا منبع۔اور نئی نسل کی مثال ایسی ہے جیسے ایک نالہ۔اور اس سے اگلی نسل ایسی ہے جیسے ایک چھوٹا دریا۔اور پھر اس سے آگے کی نسل ایسی ہوتی ہے جیسے ایک بڑا دریا۔اور پھر اس سے اگلی نسل ایسی ہوتی ہے جیسے ایک بڑا سمندر۔ہم نے چشمہ سے فائدہ اٹھایا لیکن ہم نالہ سے فائدہ نہیں اٹھا ر ہے۔حالانکہ چشمہ میں اتنی وسعت اور طاقت نہیں ہوتی جتنی ایک نالہ میں وسعت اور طاقت ہوتی ہے۔ایک چشمہ اتنا بڑا کام نہیں کر سکتا جتنا کام ایک نالہ کر سکتا ہے۔چشمہ سے پانی پینے کے لئے ہمیں چشمہ پر جانا پڑتا ہے لیکن ایک نالہ جوش و خروش میں تمہارے گھروں کے پاس سے گزرتا ہے تمہیں اُس پر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ خود تمہارے گھروں کے پاس آتا ہے۔پھر جب وہ ایک چھوٹا دریا بن جاتا ہے تو صرف یہ نہیں کہ وہ تمہارے گھروں کے پاس بہتا ہے بلکہ اور زیادہ پھیل کر زیادہ گھروں کے پاس سے گزرتا ہے۔پھر دریا اور وسیع ہو جاتا ہے تو اور زیادہ گھروں کے پاس سے گزرتا ہے اور اُس کے زمین میں جذب ہونے کا خطرہ نہیں رہتا۔اُس کا ریت میں غائب ہو جانے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔وہ پہاڑیوں اور ٹیلوں سے گو دکر ریتوں کے اوپر سے بہتا ہوا سمندر کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔اور جب وہ دریا سمندر بن جاتا ہے تو ساری زمینوں کے کنارے اُس سے ملنے لگ جاتے ہیں اور کوئی حصہ زمین ایسا نہیں ہوتا جو اُس سے متصل نہ ہو۔پس اس طاقت کو استعمال کرنا ہمارا فرض ہے۔دنیا کا ایٹم بم یورینیم (Uranium) دھات سے بننے والی ایک چیز ہے لیکن ہمارا ایٹم بم اس نے