خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 13

$1950 13 خطبات محمود جو بات نہیں ہو سکتی وہ یہ ہے کہ اگر تم لوگ خدا تعالیٰ سے صلح کر لو تو تم یعنی تمہاری قوم تباہ ہو جائے۔تم بحیثیت احمدی کے ہلاک نہیں ہو سکتے۔تم بحیثیت جماعت کے مٹ نہیں سکتے۔تم بحیثیت جماعت کے مغلوب نہیں ہو سکتے۔کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف منہ کر لے ، لازمی امر ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کی طرف منہ کرے گا۔اور جب خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہو کہ کوئی حملہ کر رہا ہے تو وہ اُسے مقصد میں کامیاب کیسے ہونے دے گا۔پولیس کی موجودگی میں اگر وہ دیانت دار ہو تو کوئی حملہ نہیں کرسکتا۔پھر خدا تعالیٰ کی موجودگی میں کوئی حملہ کیسے کر سکتا ہے۔پس دوسری بات یہ ہے کہ اپنے اندر اخلاص پیدا کرو۔تم روحانی سلسلہ کے افراد بنو، نمازوں کے پابند بنو، ذکر الہی پر زور دو، اسلام کے شعائر کو زندہ رکھنے کی کوشش کرو، اپنے اندر طہارت، پاکیزگی اور تقویٰ پیدا کرو۔نہ تم کسی کی تعریف سے خوشی محسوس کرو اور نہ کسی کی مذمت سے ڈرو کیونکہ جو خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائے دنیا کی تعریف اُسے کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔خدا کی تعریف ہی اُسے فائدہ پہنچائے گی۔اگر تم خدا کے لئے ہو تو دنیا کے لوگوں سے ڈرنا بے معنی بات ہے۔تمہیں صرف اور صرف خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔کیونکہ جو شخص کہتا ہے کہ میں خدا کا ہوں اور پھر وہ بندوں سے ڈرتا ہے یا لوگوں کی تعریف سے خوش ہوتا ہے وہ جاہل ہے یا منافق ہے۔اس کے بعد میں اعلان کرتا ہوں کہ نماز جمعہ کے بعد میں چند دوستوں کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ان میں سے ایک صاحب تو وہ ہی ہیں جو مخالفت کی وجہ سے شہید کر دیئے گئے ہیں۔اور وہ صاحبزادہ محمد اکرم خاں صاحب رئیس چارسدہ ہیں۔وہ 76 سال کی عمر کے تھے اور ایک رئیس خاندان میں سے تھے۔یہ وہی ہیں جن کے متعلق ان کے بھائی نے بیان کیا تھا کہ ہم نے ایک اٹھنی احمدیوں کو دے دی ہے اور ایک اُٹھنی غیر احمدیوں کو۔یہ پہلے پیغامی جماعت کے ساتھ تھے بعد میں مبائعین میں شامل م ہو گئے۔خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی شہادت میں بعض مولویوں کا ہاتھ ہے۔لیکن ممکن ہے کہ یہ غلط ہو کیونکہ پٹھانوں میں چھوٹی سے چھوٹی رنجش پر بھی ایک دوسرے کو قتل کر دیا جاتا ہے۔بہر حال وہ نہایت مخلص اور جو شیلے احمدی اور مبلغ آدمی تھے۔دوسرا جنازہ میں مولوی غلام حسین صاحب ریٹائرڈ انسپکٹر آف سکولز کا پڑھاؤں گا۔آپ جھنگ کے رہنے والے تھے۔بعد میں ہجرت کر کے قادیان آگئے۔نہایت مخلص احمدی تھے اور تبلیغ کا ڈھنگ ان کو نہایت اچھا آتا تھا۔ان کے لڑکوں میں سے بعض نہایت مخلص احمدی ہیں۔