خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 180

$1950 180 خطبات محمود چائے پر بلایا تو لوگ ہمیں بُرا سمجھیں گے انہوں نے جب سنا کہ لوگوں کا انہیں دعوتوں میں بلا نا عیب نہیں سمجھا گیا بلکہ ایک خوبی مجھی گئی ہے تو ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ ہم انہیں کھانے پر مدعو کریں۔ہم جب کراچی پہنچے ہیں تو ایک غیر احمدی تاجر کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ وہ کھانے پر بلانا چاہتے ہیں مگر انہوں نے وقت نہیں بتایا، پھر بتائیں گے۔میں نے کہا بہت اچھا۔وہ ہندوستان سے آئی ہوئی ایک تاجر قوم کے دو فرد تھے دونوں نے دعوت دی مگر ایک نے تاریخ بتادی اور دوسرے نے نہ بتائی۔جس نے تاریخ بتا دی تھی میں اُس کے ہاں گیا۔وہاں بہت سے قوم کے سرکردہ جمع تھے جنہوں نے مختلف سوالات کئے اور میں نے ان کے جوابات دیئے۔دوسرا شخص ڈر گیا کہ اگر میں نے دعوت کی تو میری قوم کے لوگ کیا کہیں گے۔میں بھی خاموش ہو گیا۔اُن دنوں اور بھی کئی لوگ دعوتیں دے رہے۔تھے۔جس وقت ہمارے چلنے میں صرف دو تین دن رہ گئے تو ایک دوست نے ان کی طرف سے پیغام دیا کہ آپ میری دعوت کے لئے کوئی وقت مقرر کر دیجئے۔میرے دل میں خیال آیا کہ اسے اپنی قوم کے دوسرے آدمی کو دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ اس کی مخالفت تو ہوئی نہیں بلکہ سب اس دعوت میں شریک تھے اس لئے اب میں بھی دعوت کر دوں۔چنانچہ جب یہ پیغام مجھے ملا تو میں ہنس پڑا۔پیغام دینے والے بھی سمجھ گئے اور وہ بھی ہنس پڑے اور کہنے لگے ہاں جی اس دعوت کا یہ نتیجہ ہے۔پہلے تو وہ ڈر گئے تھے مگر جب انہوں نے سنا کہ سارے لیڈر وہاں موجود تھے اور آپس میں بڑی محبت اور پیار کی باتیں ہوتی رہیں تو انہیں اب رشک آیا ہے کہ میں تو رہ ہی گیا اور انہوں نے چاہا ہے کہ اب وہ بھی دعوت کر دیں۔میں نے انہیں کہا کہ اب اسے کہہ دیں کہ اس دفعہ تم محروم ہی رہو گے کیونکہ میرے پاس اب کوئی وقت نہیں رہا۔میں سمجھتا ہوں فوجی آفیسر ز یعنی کیپٹن، میجر اور کرنل وغیرہ جو مجھے کراچی میں ملے اُن کی تعداد کسی صورت میں بھی ڈیڑھ سو سے کم نہیں تھی۔ان میں سے بعض نے گھلے طور پر تبادلۂ خیالات کیا اور بعض نے کان میں باتیں کیں کیونکہ وہ دوسروں سے شرماتے تھے۔اس طرح جو تاجر تھے میرے نزدیک وہ سو سوا سو ہوں گے جن سے کراچی میں مجھے ملنے کا موقع ملا۔اسی طرح گورنمنٹ کے آفیسر ز چالیس پچاس ہوں گے۔غرض ان کے اندر یہ جس تھی کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا ئیں مگر یہ جس لاہور کی جماعت میں مجھے نظر نہیں آئی۔ممکن ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ جو چیز روزانہ نظر آتی ہے اُس کی قدر کچھ کم ہو جاتی ہے۔ہم دو سال یہاں رہے شروع میں جماعت نے یہ