خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 6

$1950 6 خطبات محمود کرے۔جس رنگ میں اور جس اخلاص کے ساتھ جماعت نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ظاہر کیا اُسے دیکھتے ہوئے میں امید کرتا ہوں کہ مخلصین جماعت اور کارکن بہت جلد اس طرف توجہ کریں گے اور پنے قدموں کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اور جلد از جلد اپنے وعدے بڑھا کر پیش کریں گے۔اس کے علاوہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے جماعتیں حفاظت مرکز کے چندے بھی وصول کرنے کی کوشش کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں دو سال یعنی 1950ء اور 1951 ء خاص طور پر مالی بوجھ کے آئیں گے۔ان دونوں سالوں میں خصوصیت کے ساتھ جماعت پر بہت مالی بوجھ پڑے گا اور اس کے بعد بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عارضی طور پر جو مالی دباؤ پڑا ہے وہ کم ہو جائے گا۔سو جماعت کو ہر وقت یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ یہ دو سال خاص قربانیوں کے ہیں۔بلکہ در حقیقت 1946 ء سے ہی جماعت پر مالی دباؤ پڑ رہا ہے۔اس لئے پچھلے تین سالوں کو ی ساتھ ملا لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ پانچ سال کا عرصہ مالی لحاظ سے خصوصیت سے جماعت کے لئے امتحان اور آزمائش کا عرصہ ہے۔کارکنوں کو چاہیے کہ اگلے دو سال میں وہ اپنے گھروں کو مضبوط کریں۔اور اس عرصہ میں امید کی جاتی ہے کہ سلسلہ کے تجارتی اور صنعتی ادارے اتنی آمد پیدا کرنا شروع کر دیں گے کہ سلسلہ کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔اور اگر دیانتدار کارکن مل جائیں تو یہ معمولی بات ہے اور ایک ادنی توجہ کے ساتھ اِس ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔خدام الاحمدیہ کو میں دوبارہ اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اُن کا فرض ہے کہ اس سال وہ کوشش کریں کہ کوئی نوجوان ایسا نہ رہے جس نے تحریک جدید دفتر دوم میں حصہ نہ لیا ہو۔ہر جگہ کے خدام الاحمدیہ ہر فرد کے پاس جائیں اور تسلی کر لیں کہ ایک نوجوان بھی ایسا نہیں رہا جس کا تحریک جدید دفتر اول میں حصہ نہیں تھا اور تحریک جدید دفتر دوم میں بھی اُس نے حصہ نہیں لیا۔اسی طرح جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے ہر جگہ خدام الاحمدیہ قائم نہیں۔میں جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد اپنی جگہوں پر مجلس خدام الاحمدیہ قائم کریں اور کوئی جگہ ایسی نہ رہے جہاں جماعت احمد یہ موجود ہو اور مجلس خدام الاحمدیہ قائم نہ ہو۔تا نو جوانوں میں کام کی جوتحریک کی جائے وہ جلد اور بسہولت ترقی کرے۔یہ کام اللہ تعالیٰ کا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس کے لئے وہ خود ہی ہر قسم کے رستے کھولے گا۔لیکن یہ اُس کی عنایت ہے کہ وہ ہمیں کام کا موقع دے رہا ہے۔