خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 85

$1950 85 خطبات محمود گا کہ اکثریت غلطی پر ہے۔اسی طرح شفاعت کا مسئلہ ہے۔اگر ایک مسلمان کو یہ بتا دیا جائے کہ اکثریت یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ خدا تعالیٰ کھاتا ہے، پیتا ہے ، ہوتا ہے، جاگتا ہے اور مرتا ہے تو وہ کہہ دے گا اکثریت کا یہ عقیدہ غلط ہے۔پھر انبیاء کی طرف چلے جاؤ۔ہم پوچھیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تھے؟ تو وہ کہے گا پ راست باز تھے اور تمام انبیاء کے سردار تھے۔اس پر ہم کہیں گے کہ اکثریت تو یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ نَعُوذُ بِاللہ جھوٹے تھے۔کیا یہ عقیدہ ٹھیک ہے؟ وہ لا ز ما یہی کہے گا کہ نہیں۔اس طرح ہم ایک ایک کر کے وہ تمام امور جن پر اس جہان اور دوسرے جہان کا انحصار ہے لیتے جائیں گے اور اسے کہیں گے کہ اکثریت کا یہ عقیدہ ہے اور خدا تعالیٰ یہ کہتا ہے تو وہ لازماً اکثریت کے عقیدہ کو غلط کہے گا۔یا یہی ہے بات لے لو کہ خدا تعالیٰ کا ہماری موجودہ زندگی میں دخل ہے۔ایک عیسائی کہے گا نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہماری اس زندگی میں دخل ہے۔پھر اگلے جہان کے متعلق عقائد میں ایک عیسائی اور ایک بچے اور مخلص مسلمان کے درمیان بین فرق نظر آئے گا۔عیسائیت میں صرف جہنم کا احساس پایا جاتا ہے جنت کا احساس عیسائیت میں ہے ہی نہیں۔عیسائی کہتے ہیں کہ جو تو ان میں سے نیک لوگ اس دنیا میں باقی رہیں گے اُن کے لئے اسی دنیا کو جنت بنادیا جائے گا۔لیکن یہ کہ جنت ایک علیحدہ مقام ہے اور دائمی ہے یہ عقیدہ عیسائیت میں نہیں۔عیسائیوں میں صرف دائی دوزخ کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔اسی طرح انسان کی نیکی، تقویٰ کے متعلق اُن کی رائے کی درست نہیں۔پس اگر کوئی ایک بات ہوتی تو ہم کہہ دیتے کہ شاید اس بارہ میں اُن سے غلطی سرزد ہوگئی ہے لیکن یہاں تو ہر بات میں غلطی سرزد ہوئی ہے۔ہر اہم امر میں انہیں غلطی لگی ہے۔ان کی عقل پر اعتماد کیسے کیا جائے۔اگر ہم نے اکثریت کی رائے پر ہی چلنا ہے تو لازما ہمیں یہ بھی مانا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللهِ روح القدس بھی خدا ہے۔اگر ہم نے اکثریت کی رائے پر ہی چلنا ہے تولا زما ہمیں ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِاللهِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچے نہیں تھے کیونکہ اکثریت آپ کو ایسا ہی کہتی ہے۔غرض یہ عجیب قسم کا مومن کہلانے والا ہوتا ہے کہ کچھ باتوں میں وہ بلا دلیل کہہ دیتا ہے کہ اکثریت غلطی پر ہے اور بعض باتوں میں بلا سوچے سمجھے اکثریت کے پیچھے چل پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أن تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيْلِ اللهِ اگر تم اکثریت