خطبات محمود (جلد 31) — Page 76
$1950 76 خطبات محمود اس طرح وارث نہیں ہوتے۔ان میں سے ہر ایک وہ بیماریاں اور اخلاق اپنے اندر نہیں رکھتا جو ی دوسرے کے اندر پائے جاتے ہیں۔ایک دشمن کے پاس رہتا ہے اور اس کے ماں باپ بھی اس کو اپنا دشمن خیال کرتے ہیں اور ایک کے لئے محبت کے جذبات کی فراوانی موجود ہوتی ہے۔مگر جودشمن کے گھر میں رہتا ہے اس کا خون، ہڈیاں اور جسمی بناوٹ بھی شہادت سے ثابت کر دیتی ہے کہ وہ ان کا بیٹا ہے۔لیکن مرد اور عورت جن میں عاشق اور معشوق کے تعلقات ہوتے ہیں باوجود اکٹھا رہنے کے کوئی جسمانی اور خلقی ثبوت پیش نہیں کر سکتے۔مثلاً بعض اقوام ہیں ان میں ورثہ کے طور پر کوئی ایک چیز چلی آتی ہے اور وہ سب میں پائی جاتی ہے۔مغلوں کو ہی لے لو ان کے چہرہ کی ہڈی بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔مغل ہندوستان میں آئے تو یہ چیز ان میں بطور ورثہ آگئی۔ہم سینکڑوں سال سے ہندوستان میں رہتے ہیں ہماری شکلیں بدل گئی ہیں لیکن یہ ہڈی ہمارے چہروں میں اُسی طور پر موجود ہے جیسے دوسرے مغلوں میں۔اسی طرح چین کے لوگ ہیں ان کی آنکھ کی بناوٹ خاص قسم کی ہوتی ہے۔چینیوں کی آنکھ سانپ کی آنکھ کی طرح ہوتی ہے۔اب ایک چینی کو کسی ملک میں بھی لے جاؤ اس کی یہ امتیازی علامت نہیں جائے گی۔ایک چینی کا بیٹا خواہ دشمنوں میں چلا جائے اُس کی آنکھ کی بناوٹ سانپ کی آنکھ کی طرح ہوگی۔مگر ایک چینی کی ہندوستانی معشوقہ میں باوجود اس کے کہ وہ اُس پر فریفتہ ہوگا اور وہ اس پر فریفتہ ہوگی یہ چیز نہیں پائی جائے گی۔جب اسلام نے خدا کو ماں کے طور پر قرار دیا اور مسیح علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کو باپ کے طور ؟ قرار دیا تو درحقیقت اس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ تمہاری محبت کم ہو یا زیادہ بہر حال تمہیں اپنے اندر خدا تعالیٰ کی صفات کا ورثہ پیدا کرنا چاہیے۔تمہارا خدا تعالیٰ سے اس قسم کا تعلق نہیں جیسے دوست کا دوست سے ہوتا ہے یا خاوند کا بیوی سے اور بیوی کا خاوند سے ہوتا ہے۔دو دوستوں اور میاں بیوی میں محبت خواہ کتنی ہو اُن کا ورثہ کم ہوتا ہے۔لیکن ماں باپ اور بچوں میں محبت خواہ کتنی کم ہو اُن کا ورثہ زیادہ ہوتا ہے۔دیکھو! بعض لوگ بعض جانوروں کے انڈے دوسرے جانوروں کے نیچے رکھ دیتے ہیں تا ان سے بچے حاصل کریں۔بے وقوف مرغیاں اور دوسرے بے وقوف جانور انہیں پال لیتے ہیں۔لیکن ہوشیار مرغی انہیں چونچ مارکر پھوڑ دیتی ہے اور وہی انڈے اپنے نیچے رہنے دیتی ہے جو اس کے اپنے ہوتے ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ کے متعلق یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اُس میں نعوذ باللہ اتنی عقل بھی نہیں جتنی