خطبات محمود (جلد 31) — Page 28
$1950 28 خطبات محمود کے بعد کسی نبی کو تسلیم نہیں کر سکتے۔پھر انہوں نے لوگوں کو بار بار یہ کہہ کر اشتعال دلانا شروع کر دیا کہ ارے لوگو! یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور نبی مانتے ہیں۔اب یہ صاف بات ہے کہ جب یہ کہا جائے گا کہ فلاں جماعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک شخص کو نبی ماننے لگ گئی ہے تو عام طور پر اس کے یہ معنی سمجھے جائیں گے کہ گویا اُن کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ختم ہوگئی ہے۔اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے کافی ہے۔چنانچہ انہوں نے پھر دوبارہ لوگوں کے جذبات سے کھیلنا شروع کر دیا اور چاہا کہ وہ اسی رو میں بہتے چلے کی جائیں اور کبھی سنجیدگی کے ساتھ حقیقت پر غور کرنے کی کوشش نہ کریں۔غرض اِس زمانہ میں عام طور پر لوگ جذبات سے کھیلنے لگ گئے ہیں۔سچائی پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ایسے رنگ میں اپنی بات کو چکر دیتے ہیں کہ اُس کی شکل اور بن جاتی ہے اور حقیقت اور ہوتی ہے ہے۔اس نقص کو دیکھتے ہوئے اور لوگوں کے دماغوں کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب سچ کے لئے بھی اسی حربہ سے کام لینا ضروری ہو گیا ہے اور ہمارے لئے بھی اس کے بغیر چارہ نہیں رہا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آگ سے کسی کو عذاب دینا جائز نہیں۔1 اس حکم کے مطابق بندوق اور توپ وغیرہ کا استعمال مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔لیکن اس زمانہ میں چونکہ دشمن کی ان چیزوں کو استعمال کرتا ہے اور اگر مسلمان ان چیزوں کو استعمال نہ کریں تو وہ شکست کھا جائیں اس می لئے ہم کہیں گے کہ اصل حکم تو یہی ہے کہ آگ سے کسی کو عذاب نہ دیا جائے۔لیکن جب دشمن ابتدا کر دے اور وہ ان چیزوں کا استعمال کرے تو پھر مسلمانوں کے لئے بھی بندوق اور توپ اور دوسرے آتشیں اسلحہ کا استعمال جائز ہو جائے گا۔یا جیسے کسی انسان کی آزادی کو چھینا جائز نہیں۔لیکن اگر دشمن ہمارے آدمیوں کو غلام بنالے تو پھر ہمیں بھی اُن کے آدمیوں کو غلام بنانا پڑے گا۔اور ہماری یہ کا رروائی کی جو جوابی رنگ رکھتی ہوگی ہمارے لئے جائز ہو جائے گی۔یا مثلاً جنگ کرنا جائز نہیں۔لیکن اگر دشمن جنگ شروع کر دے تو پھر ہمارے لئے بھی اُس سے لڑائی کرنا جائز ہو جائے گا۔پس زمانہ کے حالات کے مطابق گو جوابی طور پر ہمیں بھی بھی تقریریں کرنی پڑتی ہیں مگر میرے گلے کی جو موجودہ حالت ہے وہ اس جوابی طریق کے اختیار کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتی۔شاید اللہ تعالیٰ ہمارے سلسلہ کے دوستوں کو اس بات کی عادت ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے نصیحت