خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 239

$1950 239 خطبات محمود ساری دنیا کو کچھ وقت کے لئے بھی دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔اس لئے اگر احمد بہت سارے ممالک میں پھیلی ہوئی ہے تو اگر کسی ایک ملک میں اس کے دشمن برسر اقتدار آ جا ئیں ( ہر نہ ماننے والا دشمن نہیں ہوتا جیسا کہ اس وقت مسلم لیگ کی حکومت ہے وہ ہمارے مذہب کی نہیں مگر اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک سیاسی حکومت ہے مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کسی پر ظلم کرنے کے لئے تیار نہیں۔لیکن فرض کرو کہ احرار ملک میں صاحب اقتدار ہو جائیں تو پھر ملکی حکومت ظالموں اور جابروں کی حکومت ہوگی اور اس سے انصاف کی تم توقع نہیں کر سکتے نہ اور کوئی شخص ان سے انصاف کی توقع کر سکتا ہے جو ان سے اختلاف رکھتا ہو۔اور اس کا قانون اور حکومت بھی اسکے خلاف ہو جائے تو احمدیوں کو ایسے رستے مل جائیں گے کہ وہ کسی اور ملک میں پھیل جائیں۔اگر کسی میں عقل اور سمجھ ہو اور اُسے توفیق ملی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی سنت کا مطالعہ کرے کہ اس کے نبیوں کے ساتھ کیا گزرا ہے تو اسے ماننا پڑے گا کہ جب تک ساری دنیا میں ہمارے مراکز قائم نہ ہو جائیں ہم جیت نہیں سکتے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کون سا ملک ہمیں امان دینے والا ہوگا۔پس احمدی کا جو دعویٰ ہے کہ اس نے اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرنا ہے اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مختلف ممالک میں تبلیغ کی جائے اور مختلف ممالک میں ہماری جماعتیں قائم ہوں تا اگر کسی ملک میں احمدیوں کو تبلیغ سے روک دیا جائے اور ان کو وہاں پھیلنے کا آزادی کے ساتھ موقع نہ ملے تو اس مجبوری کی وجہ سے اُس ملک کے احمدی اس ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں چلے جائیں۔تحریک جدید کے ذریعہ جو مشنری باہر بھیجے جاتے ہیں وہ انہی دو حکمتوں کے ماتحت بھیجے جاتے ہیں۔اُن کی ایک حکمت یہ بھی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ سچائی ایک جگہ نہیں پھیلتی بلکہ وہ مختلف ممالک میں پھیلا م کرتی ہے۔ہر ملک میں کچھ نہ کچھ آدمی شریف اور عقلمند ہوتے ہیں ان کے سامنے اگر سچائی پیش کی جائے تو وہ اسے مان لیتے ہیں۔اگر سلسلہ کے لوگ ایک ملک میں ہی رہیں تو عقلمند تو مان لیں گے لیکن مالی جو لوگ اپنے آپ کو زیادہ عقلمند اور لائق سمجھتے ہیں یا کم عقلمند ہوں گے وہ اسے ماننے کے لئے بآسانی تیار کی نہیں ہوں گے۔اگر وہ ایک ہی جگہ کے لوگوں پر اتنا خرچ کرتے رہیں گے تو ان کو احمدیت میں داخل کرنے پر بیسیوں سال لگ جائیں گے۔لیکن اگر ساری دنیا میں جائیں گے تو سچائی ماننے والے لوگ جہاں بھی ہوں گے انہیں مل جائیں گے۔جرمن جو سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کومل