خطبات محمود (جلد 31) — Page 235
$1950 235 خطبات محمود بھی ایسا کر رہے ہیں۔جو کام وہ نہیں کر رہے اور جس کی حقیقت سے وہ غافل ہیں وہ یہ ہے کہ قرآن وہ عظمت و شوکت اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کے ذریعہ توپ و تفنگ کے بغیر بھی دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے۔اب غیر احمدیوں میں بھی بیداری اور قربانی کی روح پیدا ہو رہی ہے لیکن قربانی کی وہ روح انہیں توپ و تفنگ کی طرف لے جاتی ہے قرآن کریم کی طرف نہیں لے جاتی۔وہ قرآن کریم کو ایسا ہی بے کا رسمجھتے ہیں جیسا ان سے پہلے ان کا ایک سویا ہوا بھائی سمجھتا تھا۔بے شک آجکل کا ایک مسلمان آج سے سو یا پچاس سال قبل کے مسلمان کی نسبت بیدار ہے لیکن وہ تو پوں اور تلواروں کی طرف بھاگ رہا ہے، وہ حسرت سے ایٹم بم بنانے والوں کی طرف دیکھ رہا ہے اور اس امید میں ہے کہ وہ اسے بھی صدقہ کے طور پر کچھ ہتھیار بخش دیں۔لیکن حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے کی ہمیں یہ بتایا ہے کہ تمہاری توپ قرآن ہے، تمہاری رائفل قرآن ہے تمہاری بندوق قرآن ہے، تمہارا پستول قرآن ہے۔قرآن تمہارا وہ ہتھیار ہے جس سے تم نے دنیا کا سر کچلنا ہے۔پس تم فتح کے لئے اس امر کے محتاج نہیں ہو کہ انگلستان تمہیں تو ہیں دے۔تم فتح کے لئے اس امر کے محتاج نہیں ہو کہ امریکہ تم پر مہر بان ہو اور ایک دو ایٹم بم دے دے۔یا فرانس اور جرمنی تمہیں کیمیاوی چیزیں پیدا کر کے دیں بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم قرآن کریم لو اور دنیا کو فتح کرلو۔حقیقت یہ ہے کہ وہی فرق جو عقائد سے تعلق رکھتا ہے یہاں بھی چلتا ہے۔غیر احمدی دین کے بارہ میں بھی اس امید میں ہیں کہ موسوی سلسلہ کا مسیح اسلام کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو باہر نکالے گا اور سیاسی اور تمدنی طور پر اسلام کے غلبہ کے لئے بھی غیر احمدی مغرب کی تو پوں اور گولہ بارود کی فکر میں ہیں۔لیکن احمدیت کہتی ہے نہ تو مذہبی طور پر اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کے لئے موسوی سلسلہ کے مسیح کی ضرورت ہے اور نہ اسلام کو سیاسی اور تمدنی طور پر دنیا پر غالب کرنے کے لئے یورپ اور امریکہ سے ملے ہوئے گولہ بارود کی ضرورت ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا جرنیل ہی اسلام کو روحانیت کے لحاظ سے تمام دنیا پر غالب کرے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تلوار ہی اسلام کو سیاسی اور تمدنی طور پر دنیا پر غالب کرنے کے لئے کام کرے گی۔احمدیت یہ پیش کرتی ہے کہ سیاسی طور پر جو ہتھیار کام دے گا وہ قرآن کریم ہے۔اور مذہبی طور پر جو شخص اسلام کو دنیا پر غالب کرے گا اور دنیا میں اسے دوبارہ قائم کرے گا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ایک شاگرد ہو گا۔لیکن بہر صورت یہ بات