خطبات محمود (جلد 31) — Page 12
$1950 12 خطبات محمود حَى لَا يَمُوتُ اور جو اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرتا تھا اُس کا خدا اب بھی زندہ ہے، اُس کا خدا اب بھی آزاد ہے، اُس کا خدا اب بھی سب پر غالب ہے اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔اسی طرح آج بھی کچھ لوگ ہیں جو پہلے دشمن کی تعریفوں پر خوش تھے اور اس لذت کے زمانہ کولمبیا کرنا چاہتے تھے مگر اب وہ کانپتے ہیں لرزتے ہیں اور ڈرتے ہیں۔میں اُن کو بھی کہتا ہوں اور پھر میری بات ہی سچی نکلے گی کہ تم نے تبلیغ کے وقت کو ضائع کیا اور ملمع کوسونا کہا لیکن وہ ایک دھوکا تھا۔اب پھر تم دھوکا کھا رہے ہو اور دشمن کو طاقتور سمجھتے ہو۔تمہیں وہ چلتے پھرتے اور زندہ دکھائی دیتے ہیں مگر مجھے تو اُن کی لاشیں نظر آ رہی ہیں۔اور میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن نہ زندہ ہے اور نہ غالب ہے غالب ہم ہیں جن کے ساتھ غالب خدا ہے۔وہ سر جو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر بندوں کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں کٹ جائیں گے اور بے دین مریں گے۔مگر جو خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں تمام مشکلات پر غالب آئیں گے۔مگر یہ بھی یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی مدد اُسی کا ساتھ دینے کے لئے آتی ہے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے۔تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔تم اپنے اندر خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرو۔تم اپنے اندر ذکر الہی اور نمازوں کی پابندی پیدا کرو اور دینِ اسلام کے شعائر کو زندہ رکھنے کی رغبت پیدا کرو۔بھول جاؤ اس بات کو کہ کوئی تمہارا دشمن ہے۔بھول جاؤ اس بات کو کہ کوئی تمہاری مخالفت پر آمادہ ہے۔جب تم خدا تعالیٰ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاؤ گے۔جب دنیا کی طرف تمہاری پیٹھ ہو گی تو وہ ہاتھ جو منجر لے کر تمہاری پیٹھ پر حملہ کے لئے بڑھے گا خدائے واحد اُ سے شل کر دے گا۔وہ دماغ جو تم پر حملہ کی تدابیر سوچے گا بریکار کر دے گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ تم اپنا منہ خدا تعالیٰ کی طرف کر لو اور اپنی پیٹھ بندوں کی طرف پھیر لو۔اگر تم ایسا کرو گے تو دنیا کی کوئی مصیبت تمہیں کچل نہیں سکتی۔تم بیوقوفی سے یہ نہ سمجھ لینا کہ کسی پر موت نہیں آئے گی یا کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔انبیاء پر بھی موتیں آئیں۔انبیاء بھی شہید ہوئے۔اُن کی جماعتیں بھی شہید ہوئیں۔جو میں کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ جماعت مٹ نہیں سکتی۔اور جب میں تم “ کہتا ہوں تو اس سے مراد جماعت ہے نہ کہ تم۔ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ مارے جائیں بلکہ غالب ہے کہ تم میں سے بعض مارے جائیں۔ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض گھروں سے نکالے جائیں بلکہ غالب ہے کہ وہ گھروں سے نکالے جائیں۔ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض قیدوں میں ڈالے جائیں بلکہ غالب ہے کہ وہ قیدوں میں ڈال دیئے جائیں۔لیکن