خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 175

$1950 175 خطبات محمود بے ہوش بھی ہو جاتی ہیں۔ایک طرف دینی تعلیم کے مواقع ہم نہ پہنچانا اور دوسری طرف یہ امید رکھنا کہ وہ تربیت کے فرائض نہایت عمدگی سے سرانجام دیں بالکل بے جوڑ بات بن جاتی ہے۔جب تعلیم ان میں ہے ہی نہیں ، جب تربیت کے مواقع ہی ان کے لئے پیدا نہیں کئے جاتے تو وہ دوسروں پر کیا اثر ڈالیں گی۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر عورتوں کے اندر بیداری پیدا کر دی جائے اور انہیں دین سے واقف کیا جائے تو وہ اپنے مردوں کو نہایت آسانی کے ساتھ راہ راست پر لاسکتی ہیں۔کوئٹہ میں میں نے ایک دفعہ تقریر کی جس میں کئی فوجی افسر بھی شامل ہوئے۔دو تین فوجی افسر تو تقریر سے اتنے متاثر ہوئے کہ واپسی پر وہ آپس میں یہ باتیں کرتے گئے کہ ہم نے تو اب احمدی ہو جانا ہے کیونکہ صداقت ہم پر گھل گئی ہے۔یہ بات شیطان نے اُن کی بیو یوں تک بھی پہنچا دی۔ان فوجی افسروں میں سے ایک نے چند دنوں کے بعد ہمارے ایک دوست سے کہا کہ میری بیوی نے مجھے بلا کر کہا کہ یہ لوگ کا فر اور خدا تعالیٰ کے منکر ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی نہیں مانتے اور تم ان کے گھر گئے ہو! پہلے مجھے طلاق دے دو اور پھر ان کے پاس جایا کرو۔یہ بات سنا کر اس احمدی دوست سے اُس نے کہا کہ آئندہ میں تم سے مل نہیں سکوں گا۔اب دیکھو یہ نتیجہ اس بات کا تھا کہ عورت نے ہمارے متعلق کوئی صحیح بات سنی ہی نہ تھی۔ملاں نے اس کے کان میں جو کچھ ڈال دیا اسے اُس نے پکے باندھ لیا۔عورت سنتی کم ہے مگر جتنی بات سنتی ہے اُسے ایسی گرہ دیتی ہے کہ اُس سے ادھر اُدھر نہیں ہوتی اور مرد سنتے زیادہ ہیں مگر باتوں کو گرہ کم دیتے ہیں۔ہماری نانی کی ایک بھاوج تھیں ہم دہلی جاتے تھے تو انہی کے گھر میں رہتے تھے۔ان میں تعصب بہت زیادہ تھا۔ایک دفعہ ان کے بھائی آگئے وہ حیدرآباد میں رہتے تھے مگر کبھی کبھی دہلی آ جاتے تھے اور میں اتفاقاً اُن دنوں دہلی گیا ہوا تھا اور نانی کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا۔انہوں نے آتے ہی پوچھا کہ یہ بچہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ تمہاری فلاں بھانجی کا بیٹا اور ہمارا نواسہ ہے۔وہ میرے پاس بیٹھ گئے اور پوچھنے لگے کہ قادیانیت کیا شے ہے؟ تمہیں کچھ علم ہو تو بتاؤ۔میں نے اپنے علم کے مطابق وفات مسیح اور ختم نبوت وغیرہ کے متعلق دلائل دیئے اور ایک دو آیتیں بھی پیش کیں۔وہ آدمی نرم مزاج اور شائستہ طریق کے ی تھے باتیں سن کر کہنے لگے کہ تمہاری باتیں تو سب ٹھیک ہیں پھر مولوی کیوں مخالفت کرتے ہیں؟ اتنے میں ہماری نانی بڑے غصہ سے آئیں اور اپنے بھائی سے کہنے لگیں اس کا تو دماغ خراب ہے تمہارا بھی