خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 166

$1950 166 (23) خطبات محمود عورتوں کے لئے دین سیکھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرو (فرموده 29 ستمبر 1950ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ سال میں نے تحریک کی تھی کہ یہاں مسجد کے لئے اور زمین لے لینی چاہیے اور آہستہ آہستہ ایک بڑی مسجد بنانی چاہیے کیونکہ یہ مسجد کافی نہیں۔اُس وقت مجھے بتایا گیا تھا کہ دس ہزار کے قریب چندہ ہوا ہے اور اس چندے کا بیشتر حصہ جمع بھی ہو گیا ہے اور چونکہ اب اس پر ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے یعنی ایک سال پانچ مہینے ہو چکے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ غالباً باقی رقم بھی جمع ہو چکی ہوگی۔لیکن اس وقت تک زمین نہیں خریدی گئی۔بالکل ممکن ہے کہ جب آہستہ آہستہ لوگوں کے حالات درست ہوتے جائیں تو زمینیں بھی مہنگی ہوتی جائیں۔جس طرح دوست یہاں بیٹھے ہیں ظاہر ہے کہ نماز صحیح طور پر جس طرح کہ شریعت کا حکم ہے نہیں پڑھی جاسکتی۔باوجود اس کے کہ کچھ لوگ کو ٹھے پر نماز پڑھیں گے اور کچھ گلی میں نماز پڑھیں گے۔گلی میں نماز پڑھنا درحقیقت منع ہوتا ہے مگر ہم مجبوری کی وجہ سے قادیان میں بھی اس کی اجازت دے دیتے تھے اور یہاں بھی روکتے نہیں کیونکہ جب مسجد میں جگہ ہی نہ ہو تو لوگ کیا کریں۔مگر ظاہر ہے کہ جس امر کو شریعت نے پسند نہیں کیا اُسے جلد سے جلد ہمیں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔پھر جمعہ بھی عید کی طرح کی ایک تقریب ہے جس میں خطبہ بھی پڑھا جاتا ہے اور یہ ایک پسندیدہ امر ہے۔کم سے کم احمدیت کی سنت یہی ہے کہ عورتیں بھی نماز جمعہ میں شامل ہوں۔پرانے زمانے کے فقہاء عورتوں کا جمعہ میں شامل ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے اس بات پر زور دیا جانے لگا کہ عورتوں کو بھی جمعہ میں