خطبات محمود (جلد 31) — Page 135
$1950 135 خطبات محمود رہتے۔آخر خلیفہ اول فرماتے کہ اب نمبردار بھی چلے جائیں۔تو کچھ لوگ اپنے آپ کو نمبر دار فرض کر لیا کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے لئے اور حکم ہے اور ہمارے لئے اور حکم ہے۔جب لوگ جماعت کی تعداد کے بیان کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری تعداد پندرہ لاکھ کی ہے یا بیس لاکھ ہے تو کچھ لوگ نمبر دار بننے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ جب اتنے لوگ چندہ دے رہے ہیں تو ہمارے چندہ نہ دینے سے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔غرض کہیں چندوں میں کمی آنی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ پندرہ لاکھ آدمی چندہ دے رہا ہے۔کہیں تبلیغ میں سستی آ جاتی ہے کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ پندرہ لاکھ آدمی تبلیغ کر رہا ہے اور اس طرح جماعت کا ایک بڑا حصہ اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے لگ جاتا ہے اور یہ سارا نتیجہ جھوٹ کا ہوتا ہے۔حالانکہ کچی بات تو یہ ہے کہ گو ہم نے کبھی مردم شماری نہیں کرائی لیکن ہمارے اندازہ میں جماعت کی تعداد دولاکھ کے قریب ہے۔اس سے زیادہ ہمیں نظر نہیں آتی۔ممکن ہے کہ اگر باہر کی جماعتوں کو ملا لیا جائے تو یہ تعداد تین لاکھ تک پہنچ جائے۔حد سے حد جس سے اوپر جانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں وہ چار لاکھ ہے۔لیکن اب تو مبالغہ کرتے کرتے جماعت کے بعض لوگ جب اپنی تعداد بتاتے ہیں تو پچیس لاکھ تک بتادیتے ہیں۔کچھ عرصہ ہوا ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ جماعت کی تعداد کتنی ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ میرے اندازہ میں پاکستان ، ہندوستان میں دو لاکھ کے قریب ہے۔اس نے کہا کہ فلاں مبلغ نے تو مجھے پچیس لاکھ تعداد بتائی تھی۔میں نے اُس مبلغ کو چٹھی لکھی کہ تم نے کب جماعت کی مردم شماری کروائی تھی؟ اور اگر کروائی تھی تو پھر تم نے مجھے کیوں نہ اطلاع دی کہ جماعت کی تعداد پچیس لاکھ ہے۔اس نے جواب دیا کہ آج سے پچیس سال پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ ہماری تعداد دس لاکھ ہے۔کیا اس عرصہ میں اتنی ہی بھی تعداد نہ بڑھی ہوگی کہ جماعت دس لاکھ سے پچیس لاکھ تک ہو گئی ہو؟ گویا آج سے پچیس سال پہلے ایک غلطی ہو گئی تھی اس لئے یہ فرض کر لیا گیا کہ اب جماعت پچیس لاکھ تک پہنچ گئی ہوگی۔یا یوں کہ لو کہ انہوں نے خیال کیا کہ اگر یچ ترقی کرتا ہے تو جھوٹ کیوں نہ ترقی کرے۔اسے بھی ترقی دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔میں نے اس مبلغ کو لکھا یہ تو بالکل جھوٹ ہے۔اگر دوسرے لوگ جھوٹ بولتے ہیں تو اُن کو دیکھ کر ایک مبلغ کو تو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔واقعہ یہ ہے کہ جو طاقت سچائی کو حاصل ہوتی ہے وہ کسی اور چیز کو حاصل نہیں ہوتی۔ہمارا فرض ہے