خطبات محمود (جلد 31) — Page 134
$1950 134 خطبات محمود مگر ہمارے چار پانچ مشن امریکہ میں ہیں، دس ہیں ویسٹ افریقہ میں ہیں، پانچ سات ایسٹ افریقہ م میں ہیں، اسی طرح شام میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، لبنان میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، ماریشس میں ہمارا کی مشن کھلا ہوا ہے اب پھر وہاں مبلغ جارہا ہے۔ملایا میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، انڈونیشیا میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، انگلستان میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، سوئٹزر لینڈ میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، فرانس میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے، پین میں ہمارا مشن کھلا ہوا ہے۔تو یہ بہت بڑا معجزہ ہوگا کہ اتنی قلیل تعداد کے ہوتے ہوئے ہم نے اتنے مشن کھول رکھے ہیں۔لیکن جتنے آدمی زیادہ ہوتے چلے جائیں اتنا ہی معجزہ چھوٹا ہوتا چلا جائے گا۔مسلمانوں کو ہی دیکھ لو وہ چالیس پچاس کروڑ ہیں مگر چالیس پچاس کروڑ ہونے سے ان کی عزت میں کونسا اضافہ ہوا ہے۔اس کے مقابلے میں ہم بہت ہی تھوڑے ہیں مگر چونکہ ہم کام کر رہے ہی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا رعب ہے۔غرض ہماری جماعت کے افراد میں یہ ایک نقص پایا جاتا ہے کہ وہ پوری سچائی سے کام نہیں لیتے بلکہ باتوں میں مبالغہ سے کام لینے لگ جاتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی تبلیغ میں سستی آجاتی ہے۔اسے کہتے ہیں مکڑی جالا تنتی ہے اور پھر آپ ہی اس میں پھنس جاتی ہے۔اسی طرح ہماری جماعت کے بعض افراد بھی پہلے جھوٹ بول کر کہیں گے کہ ہماری تعداد دس لاکھ ہے اور پھر یہ اندازہ لگانے بیٹھ جائیں گے کہ اگر دو روپے بھی فی آدمی چندہ دے تو تمہیں لاکھ روپیہ چندہ آ جاتا ہے۔ایسی صورت میں ایک میرے چندہ نہ دینے سے کیا نقصان ہوسکتا ہے۔گویا پہلے خود ہی ایک جھوٹ بولا اور پھر خود ہی نفس کو اجازت دے دی کہ اب میرے چندہ نہ دینے سے کوئی نقصان نہیں اور اس طرح اپنی ساری ذمہ داریوں کو ختم کر لیا۔حضرت خلیفہ اول کا طریق تھا کہ جب آپ بیمار ہوتے اور لوگوں کا جمگھٹا برداشت نہ کر سکتے تو بعض دفعہ جب آپ اپنی طبیعت میں ضعف محسوس کرتے مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے فرما دیا ہے کرتے تھے کہ میری طبیعت اچھی نہیں آپ لوگ اب تشریف لے جائیں۔اس پر مجلس میں اگر مثال کے طور پر چالیس آدمی ہوتے تو دس اٹھ کر چلے جاتے اور میں پھر بھی بیٹھے رہتے۔آپ تھوڑی دیر کے بعد پھر فرماتے کہ میری طبیعت خراب ہے دوست اب تشریف لے جائیں۔اس پر دس اور آدمی اٹھ کھڑے ہوتے اور چلے جاتے۔پھر کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد آپ فرماتے اب بہت ضعف ہو رہا ہے میں بیٹھ نہیں سکتا دوست اب چلے جائیں۔اس پر دس اور چلے جاتے مگر دس آدمی پھر بھی بیٹھے