خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 130

$1950 130 خطبات محمود لوگوں کو قرآن وغیرہ پڑھا دیتے تھے جس پر کسی نے کچھ دے دینا اور کسی نے کچھ بھی نہ دینا۔لیکن اپنے زمانہ میں وہ اہلحدیث کے لیڈر تھے اور ہزاروں ہزار لوگ ان کے متبع تھے۔بعد میں ان کے ماننے والوں میں سے ہزاروں احمدی بھی ہوئے۔اہلحدیث فرقہ کے لوگوں میں باتیں زیادہ ہوتی ہیں اور روحانیت کم ہوتی ہے۔وہ دین کے صرف ظاہری تتبع کو کافی سمجھتے ہیں اور اس کا مغز حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔مخنوں سے پاجامہ ذرا نیچا ہوا تو اعتراض کر دیا۔یا ہاتھ سینہ پر نہ باندھنے اور آمین نہ کہنے پر جھگڑنے لگ گئے۔اسی طرح شریعت کے ظاہر پر وہ خوب عمل کریں گے لیکن روحانیت کا خانہ ہمیشہ خالی رہے گا اور قلب کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کریں گے۔صوفیاء اس کے بالکل الٹ چلتے ہیں وہ قلب قلب کہتے رہتے ہیں اور ظاہر کو بیکار قرار دیتے ہیں۔حالانکہ جس طرح خالی برتن ایک بریکار چیز ہے اسی طرح دودھ بھی بغیر برتن کے محفوظ نہیں رہ سکتا۔جس طرح و شخص غلطی پر ہے جو خالی برتن کو کافی سمجھتا ہے اسی طرح وہ شخص بھی غلطی پر ہے جو دودھ کے لئے برتن ضروری نہیں سمجھتا۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ روحانیت ہی اصل چیز ہے جسمانیت کی طرف کوئی توجہ نہیں رکھنی چاہیے وہ بھی غلطی پر ہیں اور جو روحانیت سے غافل ہیں اور جسمانیت پر ہی زور دیتے چلے جاتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں۔بہر حال جس قوم سے ان کا تعلق تھا وہ صرف ظاہری باتوں کی طرف توجہ رکھتی تھی۔جب وہ احمدی ہوئے تو انہوں نے یہ باتیں سننی شروع کیں کہ اسلام پر عمل کرنے سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، انسان اس کے کلام اور الہام سے حصہ پاتا ہے ، اس کی محبت اور پیار کے نشانات مشاہدہ کرتا ہے۔اسی طرح جو لوگ احمدی ہوتے وہ بھی یہی باتیں کرتے کہ احمدی ہو کر ہم نے خدا تعالیٰ کا یہ نشان دیکھا ہے، ہم نے اس اس طرح اس کے الہامات سے حصہ پایا ہے اور یہ باتیں ان کے لئے بالکل نئی تھیں۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجلس میں انہی امور پر گفتگو فرمارہے تھے کہ باتیں سنتے سنتے مولوی برہان الدین صاحب رو پڑے۔ان کی طبیعت بے تکلف تھی اس لئے جس طرح بچہ چھینیں مارتا ہے ہے وہ بھی بے تحاشا چیچنیں مار کر رونے لگ گئے۔اب ساری مجلس حیران تھی کہ ان کو کیا ہو گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی پوچھا کہ مولوی صاحب کیا ہوا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سمجھا کہ شاید کسی قریبی عزیز کے مرنے کی انہیں خبر آئی ہے جس کو یہ برداشت نہیں کر سکے۔آخر کئی منٹ کے بعد ان کے جذبات قابو میں آئے اور وہ کہنے لگے حضور! میں یہاں آتا ہوں تو کچھ لوگ