خطبات محمود (جلد 31) — Page 26
$1950 26 خطبات محمود لیکن جب جذبات سے علیحدہ کر کے کسی بات کو پیش کیا جائے تب پتہ لگتا ہے کہ اس میں کتنا وزن ہے اور وہ معقول ہے یا غیر معقول مثلاً یہ جذباتی طریق ہی تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو چونکہ دنیا کہتی تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اس لئے مولویوں نے شور مچا دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کی جاتی ہے اور خدا کے نبی کی ہتک کی جاتی ہے، خدا کے رسول کی ہتک کی جاتی ہے۔اب یہ لازمی بات تھی کہ لوگ اس سے مشتعل ہو جاتے تھے۔جب انسان اپنے ماں باپ کی ہتک بھی برداشت نہیں کر سکتا تو خدا تعالیٰ کے نبی اور رسول کی ہتک کس طرح برداشت کر سکتا ہے۔چنانچہ وہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے احمدیت کی مخالفت شروع کر دی۔مگر آہستہ آہستہ اُن کے کانوں میں اس امر کے دلائل پڑنے شروع ہوئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔انہوں نے لڑائیاں بھی کیں ، انہوں نے کفر کے فتوے بھی لگائے مگر جب وہ گالیاں دینے اور لڑائیاں کرنے اور کفر کے فتوے لگانے کے بعد اپنے گھروں میں واپس آئے تو اُن کے دلوں سے یہ آواز اُٹھتی کہ سچی بات تو یہی معلوم ہوتی ہے کہ عیسی مر گیا ہے۔انہوں نے اس مسئلہ کی وجہ سے ہماری جماعت کے لوگوں کو مارا بھی ، انہیں پیٹا بھی ، انہیں بُرا بھلا بھی کہا مگر جب وہ غور کرتے تو اُن دلائل کی وجہ سے جو متواتر اُن کے کانوں میں پڑتے جارہے تھے وہ سمجھتے کہ بات تو یہی دل کو لگتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔پھر آہستہ آہستہ اس رونے اور ترقی کرنا شروع کیا اور پہلے ایک نے پھر دوسرے نے پھر تیسرے نے اور پھر چوتھے نے اپنی زبان سے بھی یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔اُدھر انگریزی تعلیم کا لوگوں میں نے رواج ہوتا چلا گیا اور اس تعلیم کے نتیجہ میں بھی آئندہ نسلوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ لغواور بیہودہ قصے ہم ہیں ہم ان کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔بلکہ تعلیم یافتہ آدمی تو آسمان کو ہی نہیں مانتا۔وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر بیٹھنے کو کہاں تسلیم کر سکتا ہے۔وہ تو سمجھتا ہے کہ آسمان فضا کا نام ہے کسی خاص جگہ کا نام نہیں جہاں حضرت عیسی علیہ السلام بیٹھے ہوئے ہوں۔جب وہ آسمان کا ہی قائل نہ رہا تو حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کو وہ کس طرح تسلیم کر سکتا تھا۔گو یا ادھر دلائل نے اور ادھر موجودہ زمانہ م کی تعلیم نے ان خیالات کو پلٹ دیا جو لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے تھے۔چنانچہ ہر کالج اور سکول کا لڑکا قطع نظر اس سے کہ وہ احمدیت کی تعلیم کو مانتا تھا یا نہیں۔یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے