خطبات محمود (جلد 31) — Page 172
$1950 172 خطبات محمود اس وقت عورت بھی تکلیف پاتی ہے کیونکہ مرد اس کے پاس نہیں ہوتا مگر مرد بھی اُتنی ہی تکلیف اٹھا رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کی عورت اس کے پاس نہیں ہوتی۔پھر عورت اُن مشکلات میں سے نہیں گزرتی جن مشکلات میں سے مرد گزر رہا ہوتا ہے۔وہ تو پوں کے گولوں کے سامنے جاتا ہے، رائفلوں کی گولیاں اپنے سینے پر لیتا ہے، مائنز (Mines) پر سے گزرتا ہے اور اس کی غرض کیا ہوتی ہے؟ صرف اتنی ہوتی ہے کہ میری بیوی اور بچے گزارہ کرسکیں اور اُن کو کوئی تکلیف نہ ہو۔غرض وہ تمام مشکلات جن میں سے کہ مرد گزرتا ہے اُن کا خلاصہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ میری بیوی کو روٹی ملتی رہے اور میرے بچے بھوکے نہ رہیں۔پس ہر شخص کی تکلیف اپنے اپنے رنگ کی ہوتی ہے۔یہ کہنا کہ دوسروں کو تکلیف کم ہے اور میری تکلیف زیادہ ہے نادانی ہوتی ہے۔مردوں میں بھی بعض ایسے کند ذہن ہوتے ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ عورتوں کا کام ہی کیا ہے۔گھروں میں آرام سے بیٹھی رہتی ہیں حالانکہ اگر دونوں کی زندگی بدل دی جائے عورت سے کہا جائے کہ باہر نکل آئے اور مرد سے کہا جائے کہ گھر میں بیٹھ رہے تو عورت فورا کہہ دے گی کہ میں تو گولی کے گے جانے کے لئے تیار نہیں اور مرد فورا کہہ دیں گے کہ ہم تو گھر میں بیٹھنے کے لئے تیار نہیں۔پس یہ جاہل مردوں کا طریق ہے کہ وہ کہہ دیتے ہیں کہ عورت کا کوئی کام ہی نہیں۔گھر کی چاردیواری کے اندر قید ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔اسی طرح لڑائیوں میں جانا اور گھر کے اخراجات اور کھانے پینے کی ذمہ داریوں کو اٹھانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔میں مانتا ہوں کہ کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتے۔کما کر لاتے ہیں پندرہ روپے اور پھر بیوی سے کہتے ہیں کہ وہ انہیں پر اٹھے بھی کھلائے اور بھنا ہوا گوشت بھی دے۔اور اگر وہ کی م نہیں دیتی تو جوتی لے کر اس کے سر پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اتنے روپوں میں میری جی بیوی اور بچوں کے لئے دال بھی بچتی ہے یا نہیں۔پس ہیں ایسے مرد لیکن ایسی عورتیں بھی ہیں جو ای بے ایمان اور بدکار ہوتی ہیں اور اپنے گھر میں نہیں ٹھہر تیں۔سارا دن ادھر ادھر آوارہ پھرتی رہتی ہیں۔پس مرد بھی ایسے نالائق موجود ہیں جو تھوڑی سی کمائی کر کے ساری اپنے ہی پیٹ میں ڈالنا چاہتے ہیں اور عورتیں بھی ایسی ہیں جو گھروں میں نہیں بیٹھتیں اور آوارہ پھرتی رہتی ہیں۔پس جہاں تک قانون شکنی کا سوال ہے عورت میں ہی نہیں مرد میں بھی ہے اور مرد میں ہی نہیں عورت میں بھی ہے اور جہاں تک محنت