خطبات محمود (جلد 31) — Page 159
خطبات محمود 159 $1950 دوسرے میں نے ایک اور فرق بھی دیکھا ہے جس کی طرف میں نے امیر صاحب کو توجہ بھی دلائی تھی مگر با جود توجہ دلانے کے یا تو وہ بھول گئے یا پھر جماعت پر اُن کا اتنا اثر نہیں جتنا ہونا چاہیے۔کوئٹہ میں مجھے بیماری کا ذرا بھی دورہ ہوتا تو جماعت کے لوگ باہر بیٹھے رہتے مگر مجھ سے ملنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔مجھے اُن کی آوازیں بھی آتیں اور میں سمجھتا کہ وہ خدمت کے لئے آئے ہیں مگر وہ کبھی کوشش نہیں کرتے تھے کہ مجھ سے بے موقع ملیں اور اس طرح میرے لئے بوجھ ثابت ہوں۔یہاں م بعض دنوں میں مجھے شدید تکلیف تھی اور دل کے ضعف کے بھی دورے تھے۔جماعت کے لوگ اصرار کر کے صبح نو بجے سے رات کے دس بجے تک متواتر مجھ سے ملتے رہے۔اور جب انہیں کہا جاتا کہ میں بیمار ہوں اور میرا گلا بھی بند ہے میں ملاقات کس طرح کر سکتا ہوں تو وہ کہتے کہ ہم تو اتنی دور سے آئے ہیں ہمیں تو ضرور ملنے کا موقع دیا جائے۔وہ مل کر جاتے تو دوسرا رقعہ آجاتا کہ حضور! ہم اتنی دور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے ہیں ہمیں ضرور ملنے کا شرف بخشا جائے۔دوسری ملاقات سے فارغ ہوتا ہے تو تیر ا رقعہ آ جاتا کہ مجھے ملنے کا موقع دیا جائے۔حالانکہ کوئی شخص خواہ کسی روحانی مقام پر بھی ہو بیماری بہر حال بیماری ہے۔بیمار پر زیادہ بوجھ ڈالا جائے گا تو لازماً اُس کے اعصاب ٹوٹ جائیں گے اور وہ کی کام کے قابل نہیں رہے گا۔باقی تبلیغ کے متعلق میں نے گزشتہ دنوں خدام الاحمدیہ کو کچھ مشورہ دیا تھا۔جماعت کے دوستوں کو بھی میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ بغیر تبلیغ کے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہم کوئی پولیٹیکل جماعت نہیں کہ موقع پا کر اکثریت پر غالب آجائیں اور اپنا اقتدار لوگوں پر قائم کر لیں۔یہ طریق ہمارے غلبہ کا نہیں۔ہمارا غلبہ صرف دلوں پر ہو سکتا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ سرکاری اداروں پر ہم قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لیں۔یہ شیطانی طریق ہے۔خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتوں کا طریق نہیں۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو کیا وہ ڈنڈے کے زور سے لوگوں کو ٹھیک نہیں کر سکتا تھا؟ وہ ایک دن میں اپنے فرشتے بھیج کر ابو جہل کی گردن مروڑ سکتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے ابو جہل کی گردن مروڑ نے کے لئے نہیں بھیجے بلکہ اس کے بیٹے عکرمہ کا دل مروڑنے کے لئے بھیجے اور وہ مسلمان ہو گیا۔پس اسلامی طریق یہی ہے کہ دلوں پر غلبہ حاصل کیا جائے اور اس کے لئے تبلیغ ایک نہایت ہی ضروری چیزی ہے۔آپ لوگوں کو چاہیے کہ تبلیغ کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر کے احمدیت کے حلقہ کو وسیع کرنے