خطبات محمود (جلد 31) — Page 158
$1950 158 خطبات محمود کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔مگر انسان کہیں کھانے پینے کے لئے نہیں جاتا بلکہ کسی کام کے لئے جاتا ہے۔محض کھانے کو دیکھتے ہوئے تو یہ شکل کوئٹہ سے یقیناً اچھی نظر آئے گی مگر سوال یہ ہے کہ اُن کی قربانی کے مقابلہ میں یہاں کے دوستوں کی قربانی کا کیا حال ہے۔اُن کی قربانی ایسی اعلی پایہ کی تھی کہ اُسے دیکھ کر حیرت آتی تھی۔میں وہاں دو مہینے بیمار پڑا رہا اور جماعت سے ملنے کا مجھے بہت ہی کم موقع میسر آیا۔مگر وہ لوگ اسی اخلاص کے ساتھ ہمارے دروازے پر آ کر بیٹھے رہتے تھے اور ان کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ ہمیں ملنے کا موقع نہیں ملا۔اس نے بتا دیا کہ اُن کا تعلق محض محبت کا تھا۔ورنہ بیسیوں لوگ ایسے ہوتے ہیں جو یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ جب نہ ملاقات کا کوئی موقع ملتا ہے، نہ نماز پڑھانے کے لئے وہ باہر آتے ہیں، نہ مجلس میں آکر بیٹھتے ہیں تو پھر ہمارے جانے کا کیا فائدہ؟ مگر کوئٹہ کی جماعت کے دوست با قاعدہ آتے رہے۔انہیں کبھی ملنے کا موقع نہ ملتا تھا بلکہ شکل دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملتا تھا۔مگر وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا فرض ہے کہ جائیں اور انہوں نے ذرا بھی یہ بات ظاہر نہیں ہونے دی کہ میرے بیمار ہونے یا نہ ملنے سے ان کی کوئی دل شکنی ہوئی ہے یا ان کے احساسات کو صدمہ ہوا ہے۔بلکہ وہ اور بھی زیادہ اخلاص میں نمایاں نظر آتے تھے۔بڑی چیز جو اُن میں پائی جاتی تھی وہ یہ تھی کہ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے ساتھ ایسے آدمی لائے جو احمدیت کے متعلق مجھے سے مختلف سوالات کریں اور یہ جذ بہ اُن میں ہمیشہ قائم رہا۔ممکن ہے کراچی کی جماعت اگر اس رنگ میں کوشش نہیں کر سکی تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ہم مالیر میں ٹھہرے ہوئے ہیں جو یہاں سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ہے۔اگر ہم قریب ہوتے تو ممکن ہے یہ نقص واقع نہ ہوتا۔بہر حال یہاں کی جماعت نے بھی اس رنگ میں تبلیغ کے مواقع پیدا کرنے کی ضرور کوشش کی ہے کہ انہوں نے کئی دعوتیں کیں جن میں شہر کے معززین آئے اور احمدیت کے متعلق انہوں نے معلومات حاصل کیں۔مگر دعوتوں کی کثرت بعض دفعہ وہی حالت پیدا ای کر دیا کرتی ہے جو اُس مرغی کا حال ہوا جو روزانہ سونے کا ایک انڈہ دیا کرتی تھی اور جسے اُس کی مالکہ نے زیادہ کھلا نا شروع کر دیا تا کہ وہ روزانہ دو انڈے دیا کرے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مرغی مرگئی۔بیمار آدمی بھی دعوتوں میں جا کر بیٹھے گا تو اُس کے اعصاب کو نقصان ہی پہنچے گا۔بہر حال ایسی دعوتوں اور ملاقاتوں کی کثرت فائدہ کی بجائے نقصان دیتی ہے۔اگر یہ طریق رہتا کہ مقامی جماعت کے لوگ ایسے دوستوں کو تیار کر کے اپنے ساتھ لاتے جو مختلف سوالات کرتے تو یہ زیادہ مفید رہتا۔