خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 126

$1950 126 خطبات محمود حالانکہ اگر یہودی کتب یا عیسائی کتب یا ہندوؤں کی کتب یا زرتشتی کتب یا کنفیوشس کی کتب یا بدھوں کے کی کتب کو جمع کیا جائے اور ان کی معقولیت کو دیکھا جائے تو ان میں معقولیت بہت ہی کم رہ گئی ہے اور دلیل کا تو حصہ ان میں ہے ہی نہیں۔لیکن لوگ اُن بے دلیل باتوں کو ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے ، ان غیر معقول باتوں کو ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور قرآن کریم کی معقول اور بادلیل باتوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں خالی دلیل اور معقولیت کام نہیں دیتی۔بلکہ اس کے ساتھ کسی اور چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ایک شخص ہمارے پاس آتا ہے اس نے لنگوٹی باندھی ہوئی ہوتی ہے، اس کے سر پر پھٹی پرانی پگڑی ہوتی ہے، اس کے شملہ 1 میں میں شگاف ہوتے ہیں اور اس کے سر پر جو پگڑی کا حصہ بندھا ہوا ہوتا ہے اس میں بھی کئی پر جگہ سوراخ نظر آ رہے ہوتے ہیں۔لیکن وہ بڑے مدلل طریق سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ کیمیا ایک یقینی مسئلہ ہے اور سونا بنایا جا سکتا ہے۔کچھ بے وقوف تو اسے ایسے ضرور مل جائیں گے جو نہ اُس کی لنگوٹی وی دیکھیں گے نہ اُس کی پھٹی پرانی پگڑی دیکھیں گے اور گھر سے سونالا کر اُس کے حوالہ کر دیں گے کہ اسے کئی گنے کر دیا جائے۔لیکن اکثر حصہ شہر کا ایسا ہوتا ہے جو ہنس پڑتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر تمہیں کیمیا کا علم آتا ہے تو تم نے لنگوٹی کیوں باندھ رکھی ہے؟ تمہارے سر پر یہ پھٹی پرانی پگڑی کیوں ہے؟ ہمیں کیمیا نہیں آتی لیکن ہم نے تہہ بند پہنا ہوا ہے یا پاجامہ یا شلوار پہنی ہوئی ہے اور ہمارے سر پر تمہاری پگڑی سے کئی درجے بہتر پگڑی موجود ہے۔ایسی صورت میں ہم تمہاری دلیلوں کو کیا کریں۔دلائل پیش کرتے وقت تو وہ لوگ بعض دفعہ ایسی ایسی دلیلیں دیتے ہیں کہ معمولی علم رکھنے والا انسان حیران رہ جاتا ہے۔انہیں سائنس کے جدید نظریات کا بھی کچھ علم ہوتا ہے۔وہ اخبارات اور رسالوں وغیرہ کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور جب گفتگو کا موقع آئے وہ بڑے زور سے بیان کرتے ہیں کہ جرمنی کے فلاں سائنس دان نے سونا بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔تم پہلے ان باتوں کو سن کر ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ سونا نہیں بن سکتا۔لیکن اب ایک سائنس دان نے سونا بنا کر دکھا دیا ہے۔پھر وہ اپنی تائید میں ایٹم بم کو پیش کرتے ہیں۔ایٹم بم کی ساری تھیوری ہی اس بات پر ہے کہ ایک قسم کے جو ہر کو دوسرے جو ہر میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اور جب جو ہر تبدیل کیا جا سکتا ہے تو تانبا یا چاندی کو بھی سونے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔غرض ان کی دلیلیں بڑی معقول ہوتی ہیں۔وہ کہتے ہیں تم ہم