خطبات محمود (جلد 31) — Page 99
$1950 99 خطبات محمود ہورہا ہے تو منافقوں نے شادیانے بجائے اور کہا اب دیکھا جائے گا کہ کیا ہوتا ہے۔روما اور مسلمانوں کا مقابلہ ایسا ہی تھا جیسے ہاتھی اور چڑیا کا آپس میں مقابلہ ہو۔مگر اس کو تم جنت کہتے ہو۔ایمان کے لحاظ سے تم یقین رکھتے ہو کہ یہ جنت تھی۔لیکن جب اس لفظ کا اپنے لئے استعمال کرتے ہو تو کہتے ہو کہ ہمیں بھی وہی جنت ملے جو اس احمق کو ملی جو منکر نکیر دیکھنے کے لئے رات کو قبر میں چُھپ گیا تھا۔حالانکہ جس نے جنت کا لفظ بولا ہے اس نے جو اس کے معنے لئے ہیں ہمیں بھی وہی معنے لینے پڑیں گے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتُن 3 مومن کو دو جنتیں ملیں گی۔ایک اس جہان میں اور ایک دوسرے جہان میں۔جس کے منہ سے دنیا میں جنت ملنے کا وعدہ نکلا ہے اُسی نے کہا ہے کہ اِنْ تَكُونُوا و تَألَمُوْنَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَالَمُونَ۔جنت کے یہ معنے نہیں کہ تم پر مصائب وارد نہ ہوں بلکہ جنت کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ تمہیں تکلیفیں پہنچیں۔اس لئے یہ تکلیفیں تمہیں محسوس نہیں ہوئی چاہئیں کیونکہ جن کے مقابلہ میں تم اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا عاشق قرار دیتے ہواُن کو بھی تکالیف پہنچ رہی ہیں لیکن وہ تمہارے برابر نہیں ہیں۔وَتَرْجُونَ مِنَ اللهِ مَا لَا يَرْجُونَ۔تم یہ امید رکھتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم سے خوش ہو رہا ہے اور اگلے جہان میں بھی تمہیں زندگی ملے گی۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کافروں کو یہ امید نہیں ہوتی۔ان کے لئے نہ اس جہان میں جنت ہے اور نہ اگلے جہان میں جنت ہے۔ہر شخص یہ امید کرتا ہے کہ اس کا گھر جنت میں ہو اور جنت کی خدا تعالیٰ نے یہاں تعریف کر دی ہے لیکن بعض احمدی جنت کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ وہ احمدی اس لئے ہوئے ہیں کہ ان کی تنخواہ بجائے دوسو کے پانچ سو ہو جائے۔وہ احمدی اس لئے ہوئے ہیں کہ پہلے ان کا ایک بچہ ہے۔اب دس بچے ہو جائیں۔وہ احمدی اس لئے ہوئے تھے کہ وہ سمجھتے تھے کہ پہلے دو چار آدمی اُن سے خوش ہیں اب سارا قبیلہ ان کے ہاتھ پر جمع ہو جائے گا۔قوم انہیں لیڈر بنائے گی۔یہ نقشہ ہوتا ہے جنت کا جو ایک شخص احمدی ہوتے ہوئے بعض دفعہ اپنی نظروں کے سامنے رکھتا ہے۔نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ جب بھی اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ چلا اٹھتا ہے۔حالانکہ اُسے پہلے ہی سمجھنا چاہیے تھا کہ احمدی ہونے کی وجہ سے اس کی تنخواہ دوسو کی بجائے ایک سو ہو جائے گی۔یہ نہیں کہ احمدی ہو جانے کی وجہ سے اس کی اولا د بڑھ جائے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے پہلے بچے بھی تکلیف اٹھا ئیں۔اسے یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ قوم اسے لیڈر بنائے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ دس بارہ آدمی جو اُ سے پہلے جانتے ہیں وہ بھی اسے چھوڑ دیں۔