خطبات محمود (جلد 31) — Page 90
$1950 90 خطبات محمود اُس کی طبیعت پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ وہیں سے کوٹ گیا۔اور واپس جا کر اُس نے اپنی قوم سے کہا کہ یہ لوگ قربانیاں دینے یہاں آئے ہیں میں کس منہ سے انہیں کہوں کہ تم واپس چلے جاؤ۔باوجود اس کے کہ وہ قوم کی طرف سے مسلمانوں کے سامنے ایک مسئلہ پیش کرنے آیا تھا قربانیاں دیکھ کر اُس کی طبیعت پر یہ اثر ہوا کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے ایک قسم کا سفیر بن کر واپس چلا گیا۔غرض بعض دفعہ دوسرے کے جذبات کا پاس کرنا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن اس صورت میں دوسرا شخص بھی یہ سمجھتا ہے کہ ان لوگوں نے یہ کام ڈر کے مارے نہیں کیا بلکہ میری دلجوئی کے لئے کیا ہے۔لیکن اتباع اور چیز ہے۔اتباع کرنے والے کو دیکھنے سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے سے ہے۔مثل مشہور ہے کہ جب کھلی میں سردیا تو موہلوں سے کیا ڈر کوئی شخص اُکھلی میں سر رکھ دے اور پھر کہے کہ موہلا بھی نہ پڑے تو یہ ناممکن ہے۔انبیاء کی جماعتوں میں داخل ہونے کے معنے دنیا کی مخالفت مول لینے کے ہیں۔بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ چھوٹی جماعت ماری جائے گی لیکن یہی تو بات مانی ہے جو ہم دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ ہمیں خدا نے قائم کیا ہے اس لئے اگر چہ ہم تھوڑے ہیں لیکن ہم مریں گے نہیں۔اگر ہم منہ سے یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کی قائم کردہ جماعت ہیں لیکن مخالف سے کہتے ہیں ذرا آہستہ مار تو پھر خدا کا معجزہ کیا ہوا۔خدا تعالیٰ کا معجزہ تو اسی صورت میں ہوگا کہ اگر مخالف مارتا ہے تو وہ اُسے کہے کہ اور مار۔حضرت نوح علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے کہا کہ تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اس چیز میں کوئی مزہ نہیں کہ تم اکیلے اکیلے آؤ تم اکٹھے ہو کر آؤ تو تب مزہ ہے۔پھر کہا تم اکٹھے بھی ہو کر آؤ تو کوئی مزہ نہیں ہو سکتا ہے۔تمہاری سکیمیں الگ الگ ہوں جس کی وجہ سے باوجود ا کٹھے ہونے کے تمہاری طاقت متحد طور پر خرچ نہ ہو اس لئے تم اکٹھے ہو کر اور ایک سکیم تیار کر کے اس کے ماتحت حملہ کرو۔پھر تم دیکھ لو گے کہ تم مجھے کوئی ضر نہیں پہنچا سکتے کیونکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور خدا تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا۔یہ مومنانہ طریق ہے۔مومن یہ نہیں کہتا کہ تم میرے مقابلہ میں اکٹھے ہو کر کیوں آئے ہو یا تم نے ایک سکیم کیوں بنائی ہے میں تو اکیلا ہوں تم بھی ایک ایک کر کے آؤ۔بلکہ وہ کہتا ہے کہ تم اکٹھے ہو کر اور ایک سکیم بنا کر آؤ لیکن تم مجھے پھر بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ایسا شخص دنیا میں ایک بھی ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا صداقت سے خالی نہیں رہ سکتی کیونکہ وہ ایک رہ نہیں سکتا۔ایک وہ اسی صورت میں رہ سکتا۔