خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 59

1950ء 59 خطبات محمود میں اس وقت جماعت کو چند باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔ پہلے مختصر ا بتاتا ہوں پھر خدا نے اگر توفیق عطا کی تو مفصل بیان کروں گا۔ پہلے ساکنین قادیان اور پھر ساکنین ربوہ کو توجہ دلاتا ہوں کیونکہ اُن کے اخلان کے اخلاق تمام جماعت کے لئے نمونہ کے طور پر ہیں ۔ اس لئے انہیں اپنے اخلاق کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔ اخلاقی باتوں میں سب سے اہم چیز محنت ہے۔ سچائی کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے، انصاف اور فرائض کی ادائیگی کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے، بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ پس محنت ایک اساسی خُلق ہے۔ لیکن عام طور پر کام کرنے والوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ کام کو ایک گلے پڑا ڈھول سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے فرائض کو پوری طرح سرانجام نہیں دیتے اور اس طرح وہ لوگ جن کو اُن کی محنت سے فائدہ پہنچ سکتا تھا وہ اُس کے فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دوسرا اساسی خلق سچ ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹ بے شک ایک ایسی چیز ہے جو ایسی چیزوں سے تعلق رکھتی ہے جو سامنے نہیں ہوتیں۔ لیکن انسان تجربہ کے بعد ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ سمجھ سکتا ہے کہنے والا سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ کہہ رہا ہے۔ اس کے علاوہ بعض دفعہ اور لوگ سچ بول کر اُس کے جھوٹ کو ظاہر کر دیتے ہیں ۔ پس جھوٹ ایک اساسی گناہ ہے اور سچ ایک اساسی خُلق ہے۔ پہلا فعل گناہ اور قطعی گناہ ہے اس کو چھوڑ نا چاہیے۔ اور دوسرا ایک فرض اور قطعی فرض ہے اُس کو اختیار کرنا چاہیے۔ اور یہ دونوں چیزیں اساسی ہیں اور جماعت کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس حد تک ان پر کار بند اور عمل پیرا ہے ۔ خصوصاً ساکنین ربوہ اور ساکنین قادیان کو چاہیے کہ وہ اس طرف خاص توجہ دیں اور اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کریں۔ یہ دونوں خُلق جن کو میں نے بیان کیا ہے ایسے ہیں جن کے بعض حصے ہر ایک انسان پر ظاہر نہیں ہوتے تم میں سے بعض جھوٹ کی تمام تعریفیں نہیں سمجھتے لیکن تم میں سے ہر ایک جھوٹ کے کوئی نہ کوئی معنے ضرور سمجھتا ہے۔ اگر جھوٹ کی سو قسمیں ہوں تو کوئی اُن میں سے پچاس سے واقف نہ ہوگا۔ اور اگر پچاس ہوں تو کوئی ان تمام پچاس تعریفوں سے واقف نہ ہوگا۔ لیکن وہ ان میں سے کسی ایک کا تو ضرور واقف ہوتا ہے۔ اسی طرح محنت ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص بارہ گھنٹے کام کرے اور وہ محنتی نہ ہو اور دوسرا سات گھنٹے کام کرے اور وہ محنتی ہو۔ لیکن ہر ایک آدمی محنت کی