خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 53

$1950 53 خطبات محمود پھر دوسرے نقطہ نگاہ سے یعنی اصلیت کے لحاظ سے عرب ممالک نہایت ہی اہم حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ اسلام انہی سے نکلا اور انہی سے باہر پھیلا۔اور وہ مقامات جن کے ساتھ انسانی عبادات وابستہ ہیں وہیں واقع ہیں۔لیکن اس وقت وہ فعال مرکز نہیں۔اسلام کی اشاعت اور تنظیم کی طرف انہیں کوئی توجہ نہیں۔غرض اصلیت کے لحاظ سے عرب ممالک دنیا پر فوقیت رکھتے ہیں خواہ وہاں تبلیغ کا کام نہ ہو رہا ہو۔تیسرا مرکز اس وقت جنوب مشرقی ایشیا ہے جو آبادی کے لحاظ سے بہت بڑی فوقیت اور عظمت رکھتا ہے۔انڈو چائنا 2 ، ملایا، سیام 3 ، انڈو نیشیا اور فلپائن ان کو اگر ملا لیا جائے تو آبادی کے لحاظ سے یہ علاقہ دنیا کا تیسرا حصہ ہے۔لیکن رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا حصہ تو گجا چھٹا حصہ بھی نہیں۔ان ممالک میں سے جو اسلام کے ساتھ تعلق رکھنے والا علاقہ ہے وہ انڈونیشیا کا ہے۔انڈونیشیا اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اسلام اگر مشرقی ایشیا میں ترقی کر سکتا ہے تو صرف یہی ملک اس کا مرکز ہوسکتا ہے۔چین میں بھی مسلمان ہیں لیکن اتنی آبادی نہیں جتنی انڈونیشیا کی ہے۔دوسرے یہ کہ وہ اقلیت کی حالت میں ہیں اور اپنے وجود کو غیر مسلموں سے منوا نہیں سکتے۔انڈونیشیا کو یہ فوقیت بھی حاصل ہے کہ یہ ملک ایشیائیوں کے ماتحت بھی ہے اور اس میں آبادی بڑھنے کے سامان بھی موجود ہیں۔بور نیو کا جزیرہ ہندوستان کے نصف سے بڑا ہے لیکن اُس کی آبادی صرف پچیس تمیں لاکھ ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ مسلمانوں کا ایک حصہ ایسے ملک پر قابض ہے کہ وہاں دس پندرہ کروڑ کی آبادی بڑھائی جاسکتی ہے۔یہ فوقیت اور کسی ملک کو حاصل نہیں۔باقی ملک گنجان طور پر آباد ہیں اور ترقی کی گنجائش ان میں موجود نہیں۔پھر انڈونیشیا کا ہالینڈ سے تعلق ہے اور چونکہ وہ چھوٹا سا ملک ہے انڈونیشیا کے اُس کے ساتھ ملنے کی وجہ سے مسلمانوں کی آبادی ڈچ ایمپائر میں بڑھ جاتی ہے اور اس وجہ سے ایک یورپین ایمپائر میں مسلمانوں کا حصہ زیادہ ہو کر مسلمانوں کا سیاسی نفوذ بڑھ جاتا ہے۔چوتھی اہمیت امریکہ کو حاصل ہے جو اسے تہذیب اور کمال کے لحاظ سے حاصل ہے۔امریکہ کی تنظیم، دولت، تجارت، صنعت و حرفت، حکومت اور تہذیب کے لحاظ سے سارے ملکوں میں نمبر اول پر ہے۔پانچویں خصوصیت دنیا کے ملکوں میں سے افریقن قبائل کو حاصل ہے۔خصوصاً وسطی قبائل کو۔شمالی پہلے سے مسلمان ہے اور جنوبی حصہ پر بعض مغربی قو میں قابض ہیں۔لیکن وسطی حصہ ابھی تک