خطبات محمود (جلد 31) — Page 39
$1950 39 خطبات محمود اُٹھالے گا اور اس کا سچ عبادت بھی بن جائے گا۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ مسلمان جو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالتا ہے اس نیت اور ارادہ سے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے تو اُس کا اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنا بھی ثواب کا موجب ہوگا اور اُس کا یہ فعل عبادت شمار ہوگا۔6 اب جو چیز دی گئی ہے وہ روٹی ہے۔کھانے والی بیوی ہے۔مگر خدا کہتا ہے کہ یہ میری عبادت ہے کیونکہ یہ میرے نام سے اور میری خاطر دی گئی ہے۔پس نماز کا نام ہی عبادت نہیں بلکہ ہر اس چیز کا نام عبادت ہے جو خدا کے لئے کی جاتی ہے۔حتی کہ اور تو اور اگر اپنے منہ میں بھی کوئی شخص اس لئے نقمہ ڈالتا ہے کہ خدا نے کہا ہے كُلُوا وَاشْرَبُوا تو اُس کا اپنے منہ میں لقمہ ڈالنا بھی عبادت بن جاتا ہے۔شاید تم میں سے بعض لوگ کہیں کہ یہ تو بڑی ہے آسان بات ہو گئی اس میں مشکل ہی کیا ہے۔اس شبہ کے ازالہ کے لئے میں تمہارے پردے تو چاک کرنا نہیں چاہتا لیکن اگر ابھی میں تم سے پوچھوں کہ تم میں سے کتنے ہیں جو بِسْمِ اللہ پڑھ کر کھانا کھاتے ہی ہیں؟ تو شاید تم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو کھڑے ہوں گے۔حالانکہ جہاں سچا عشق ہوتا ہے وہاں انسان آپ نئی نئی ایجادیں کیا کرتا ہے۔مگر ہمارے لئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایجادیں کی ہوئی ہیں ہم اُن کو بھی اختیار نہیں کرتے۔اگر میں تم سے پوچھوں کہ تم میں سے کتنے لوگ ہیں جو کھانا کھانے کے بعد الْحَمدُ لِلهِ ! کہتے ہیں؟ تو تم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو کھڑے ہوں گے۔جب تم نے میری یہ بات سنی تھی کہ ہمارا کھانا کھانا بھی عبادت ہے تو تم نے اپنے دل میں سمجھا تھا کہ یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے اب تو ہمارے لئے آسانی ہی آسانی ہوگئی ہے۔مگر میں نے بتایا ہے یہ چھوٹی بات نہیں۔تم با قاعدہ بسم اللہ کہہ کر بھی کھانا نہیں کھاتے۔مگر اس جگہ میری مراد وہ بسم اللہ نہیں جو لوگ بلا سوچے سمجھے کہہ دیتے ہیں اور جس کے مفہوم کو وہ سمجھتے ہی نہیں۔بلکہ میری مراد یہ ہے کہ کیا تم اس مفہوم کے ساتھ بسم اللہ کہا کرتے ہو کہ میرے سامنے جو کھانا پڑا ہے یہ میرا نہیں بلکہ خدا کا ہے اور اُس کی اجازت سے میں اسے کھانے لگا ہوں؟ پھر کیا کھانا کھا کر تم اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہتے ہو جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ کھانا مجھے خدا نے ہی دیا تھا کہ اُس نے مجھے یہ چیز کھلائی اگر وہ نہ کھلاتا تو میں کہاں سے حاصل کرتا ؟ شاید تم میں سے ایک دو فیصدی یا کچھ زیادہ لوگ ایسے نکلیں گے جو منہ سے تو بسم اللہ کہتے ہیں مگر حقیقت کو نہیں سمجھتے۔منہ سے اَلْحَمْدُ لِلهِ کہتے